تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور ایران اپنے جائز مطالبات واشنگٹن تک پہنچا چکا ہے، اب فیصلہ امریکی حکومت کو کرنا ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی بدستور مرکزی مذاکرات کار ہیں، جو مذاکراتی عمل میں ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کی جانب سے عائد بحری ناکہ بندی کا خاتمہ ضروری ہے۔
ایرانی ترجمان نے خبردار کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگی صورتحال اب بھی برقرار ہے، اس لیے تہران کو ہر ممکن صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
اسماعیل بقائی نے دوحہ مذاکرات سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کی تجویز ان مذاکرات میں زیرِ بحث نہیں آئی۔
انہوں نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ایران اپنے مطالبات امریکا تک پہنچا چکا ہے اور اب آئندہ پیش رفت کا انحصار واشنگٹن کے فیصلے پر ہے۔










