لاہور ہائیکورٹ نے نورین نیازی کی دو بیٹیوں کو کل صبح 10 بجے جیل میں والدہ سے ملاقات کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے ملاقات کا دورانیہ ایک گھنٹہ مقرر کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لاہور کو ہدایت کی ہے کہ وکیل کی درخواست موصول ہونے پر ملاقات یقینی بنائی جائے۔
لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے سکینہ اور شاہ ریز کی درخواست پر بانی پاکستان تحریک انصاف کی بہنوں کی نظر بندی کے نوٹیفکیشن میں توسیع کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا کہ نورین نیازی کی دونوں بیٹیوں کی والدہ سے ایک گھنٹے کی ملاقات کرائی جائے۔ عدالت کے مطابق وکیل ملاقات کے لیے ڈپٹی کمشنر لاہور کو درخواست دے گا، جس پر ڈی سی لاہور کل ملاقات کا انتظام کریں گے۔
عدالت نے نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی نظر بندی کے نوٹیفکیشن میں توسیع کے معاملے پر ڈپٹی کمشنر لاہور کو ذاتی حیثیت میں 4 نومبر کو طلب کر لیا، جبکہ علیمہ خانم کی نظر بندی میں توسیع کے خلاف درخواست پر سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔
دوران سماعت عدالتی حکم پر سیکرٹری داخلہ نے رپورٹ پیش کی۔ پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نورین نیازی کا ہسپتال میں علاج کرایا گیا تھا اور ڈاکٹروں کی ہدایت پر انہیں دوبارہ جیل منتقل کیا گیا۔ وکیل کے مطابق علاج کے دوران 29 اکتوبر کو حاجرہ نیازی کی اپنی والدہ سے ملاقات بھی کرائی جا چکی ہے۔










