عالمی منڈی: مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے مزید طول پکڑنے کے خدشات کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا۔ ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں کارروائی کی دھمکی نے سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
تجارتی سرگرمیوں کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 49 سینٹ اضافے کے بعد 97.49 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 1.44 ڈالر اضافے سے 92.92 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ میں خطرات کے اندازوں کو نمایاں طور پر تبدیل کردیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے اثرات صرف 2026 تک محدود رہنے کے بجائے 2027 میں بھی تیل کی قیمتوں اور سپلائی پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں متاثر
ایران کی جانب سے مزید امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکی کے بعد ہفتے کے آغاز میں آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بھی سست پڑنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خطے سے تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھنے کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کے تبادلے نے خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔ امریکا کی جانب سے ایرانی تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
گولڈمین سیکس نے تیل کی قیمتوں کا اندازہ بڑھا دیا
مشرق وسطیٰ میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی کشیدگی کے خدشات کے باعث گولڈمین سیکس نے بھی خام تیل کی قیمتوں کے اپنے سابقہ اندازوں میں اضافہ کردیا ہے۔
ادارے کے نئے تخمینے کے مطابق دسمبر 2026 کے لیے برینٹ کی قیمت 85 ڈالر جبکہ WTI کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ہے۔ 2027 کے لیے بالترتیب 80 اور 75 ڈالر فی بیرل کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ اور بحری نقل و حمل میں رکاوٹیں برقرار رہیں تو رواں سال کے اختتام تک خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر رہ سکتی ہیں، جبکہ عالمی سپلائی کے معمول پر آنے میں 2027 تک وقت لگنے کا امکان ہے۔











