لاہور : نیشنل سپرٹ فاؤنڈیشن (NSF) کے زیر اہتمام دریائے راوی کے پار واقع تاریخی باغ نور جہاں میں ایک تفریحی و ثقافتی دورے کے ساتھ گیٹ ٹو گیدر کا انعقاد کیا گیا، جس میں ادیبوں، شاعروں، سماجی شخصیات، فنکاروں، سیاحوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
تقریب کی صدارت معروف اسکالر اور سینئر انجینئر محمد آصف نے کی جبکہ شمشاد بشیر ویلفیئر فاؤنڈیشن کے صدر شمشاد حسین مہمان خصوصی تھے۔
اس موقع پر نیشنل سپرٹ فاؤنڈیشن کی صدر، معروف ادیبہ و شاعرہ صبا ممتاز بانو، بین الاقوامی سیاح مقصود احمد چغتائی، سماجی رہنما رانا عامر، بشارت احمد وہرہ، انیس وہرہ، شعرا علی راج اور محمود ترازی سمیت دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔
تقریب میں سوشل ایکٹوسٹ جاوید اقبال، مسیحی برادری کے نمائندے یونس بھٹی، معروف فوٹوگرافر مہر عبدالشکور، یوگا انسٹرکٹر سائرہ سعید، ریڈیو و ٹی وی نعت خواں ثانیہ شبیر اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں شرکاء نے حصہ لیا۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے قدرتی ماحول اور باغات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت مند اور خوشگوار زندگی کے لیے انسان کو مصروفیات سے وقت نکال کر قدرتی مقامات، باغات اور پارکس کا رخ کرنا چاہیے۔
گیٹ ٹو گیدر کی ایک منفرد خصوصیت یہ رہی کہ شرکاء اپنے گھروں سے مختلف کھانے بطور تحفہ لائے۔ محفل میں چاول، کڑھی، پکوڑے، مٹھائیاں، بسکٹ، پھل، کولڈ ڈرنکس اور چائے سمیت مختلف اشیائے خورونوش سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔
اس موقع پر مغل بادشاہ جہانگیر کی اہلیہ ملکہ نور جہاں کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی اور تاریخی باغ سے وابستہ ورثے کو یاد کیا گیا۔
تقریب کی میزبانی اور نظامت کے فرائض مقصود چغتائی نے انجام دیے۔ معروف شاعر علی راج نے گیت پیش کرکے محفل کو مزید خوشگوار بنایا، جبکہ سائرہ سعید نے شرکاء کو یوگا تھراپی کروائی۔
فوٹوگرافر مہر عبدالشکور نے پورے دورے کی پیشہ ورانہ انداز میں عکاسی کی اور مختلف لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔
اختتام پر رانا عامر اور انیس وہرہ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خصوصی طور پر ڈاکٹر ثانیہ کی جانب سے تیار کیے گئے کھانوں کو سراہتے ہوئے ان کی بہترین میزبانی اور تعاون پر بھی اظہار تشکر کیا۔









