بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے یرغمالی بھی ہلاک ہوئے، سابق اسرائیلی آرمی چیف کا اعتراف

SerialKiller

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے یرغمالی بھی ہلاک ہوئے، سابق آرمی چیف کا اعتراف

غزہ: اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حالیوی نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری کے دوران بعض اسرائیلی یرغمالی بھی مارے گئے، تاہم فوج کو اس وقت ان کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوجی عہدے سے استعفیٰ دینے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد اپنے پہلے عوامی خطاب میں ہرزی حالیوی نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کو اسرائیل کی ایسی ناکامی قرار دیا جسے روکا جاسکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں کسی قسم کی اندرونی غداری شامل نہیں تھی۔

نیویارک میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق اسرائیلی آرمی چیف نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں شدید فوجی دباؤ کے بغیر یرغمالیوں کی واپسی ممکن نہیں تھی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اسرائیلی فوج کی بمباری کے نتیجے میں کچھ یرغمالی ہلاک ہوئے اور فوج کو معلوم نہیں تھا کہ وہ متعلقہ مقامات پر موجود ہیں۔

ہرزی حالیوی نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد غزہ میں حماس کے خلاف زمینی فوجی کارروائی شروع کرنے کے لیے سیاسی قیادت کو قائل کرنے میں خاصا وقت لگا۔

اسرائیل میں 7 اکتوبر کے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واقعے کی انکوائری مکمل کرنا اور مشکل سوالات کے جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اپنی غلطیوں کی اصلاح کے لیے اسرائیل کو اپنی ناکامیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔

سابق آرمی چیف نے انکشاف کیا کہ 7 اکتوبر کی صبح جب حماس کا حملہ جاری تھا، اسرائیل نے حزب اللہ کو بھی سخت پیغام بھیجا تھا۔ ان کے مطابق پیغام میں خبردار کیا گیا تھا کہ اسرائیل حزب اللہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی کارروائی کی صورت میں لبنان کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ ہرزی حالیوی 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے وقت اسرائیلی فوج کے سربراہ تھے۔ غزہ میں کئی ماہ تک جاری رہنے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد انہوں نے مارچ 2025 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

2026-11-02 660
Advertisement
Advertisement
Advertisement
×