تحریر: ارم شہزاد
ایک گھنے جنگل میں ایک شیر رہتا تھا جو خود کو دنیا کا سب سے طاقتور جانور سمجھتا تھا۔ اس کی دھاڑ سے پورا جنگل کانپ اٹھتا تھا۔ شیر کو اپنی طاقت پر اتنا غرور تھا کہ وہ دوسرے جانوروں کو اپنے سامنے کچھ بھی نہیں سمجھتا تھا۔
ایک دن شیر نے جنگل کے درمیان ایک بڑے درخت کے نیچے دربار لگایا اور زور سے دھاڑتے ہوئے اعلان کیا:
’’ہے کوئی اس جنگل میں جو میرے جیسا طاقتور ہو؟ ہے کوئی جو مجھ سے مقابلہ کر سکے؟ اگر کوئی مجھے ہرا دے تو میں اپنی بادشاہت اس کے حوالے کر دوں گا!‘‘
یہ سن کر لومڑی فوراً آگے بڑھی اور بولی، ’’بادشاہ سلامت! آپ جیسا بہادر اور طاقتور پورے جنگل میں کوئی نہیں۔ آپ تو ایک ہی دھاڑ میں دس ہاتھیوں کو بے ہوش کر سکتے ہیں!‘‘
ہاتھی نے حیرت سے کہا، ’’بہن! مجھے تو ایک دھاڑ سے صرف نیند آتی ہے، بے ہوشی نہیں!‘‘
تمام جانور ہنسنے لگے، مگر شیر اپنی تعریف سن کر مزید اکڑ گیا۔
کئی دن گزر گئے، لیکن کوئی جانور شیر کا مقابلہ کرنے نہ آیا۔ شیر نے سمجھ لیا کہ پورے جنگل میں اس کا کوئی حریف نہیں۔ وہ ہر روز اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا، دم ہلاتا اور اعلان کرتا، ’’میں ہی جنگل کا اصل بادشاہ ہوں!‘‘
ایک دن یہ خبر ایک ننھے سے مچھر تک پہنچی۔ مچھر نے اپنے دوستوں کو جمع کیا اور کہا، ’’بادشاہ بننے کے لیے صرف بڑے دانت اور بھاری جسم نہیں، تھوڑی سی عقل بھی چاہیے!‘‘
مچھر نے شیر کو پیغام بھجوایا کہ وہ اس سے مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔
پیغام سنتے ہی شیر قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
’’کیا؟ ایک مچھر مجھ سے لڑے گا؟ ارے لومڑی! کہیں یہ مچھر میرے کان میں گھس کر بادشاہ تو نہیں بننا چاہتا؟‘‘
لومڑی نے بھی ہنستے ہوئے کہا، ’’بادشاہ سلامت! اسے ابھی سے کھا جائیے، مقابلے کی ضرورت ہی نہیں!‘‘
مگر شیر نے سوچا کہ اگر وہ مچھر کو نظر انداز کرے گا تو جنگل میں اس کی بے عزتی ہوگی۔ چنانچہ مقابلے کا دن مقرر کر دیا گیا۔
مقابلے والے دن تمام جانور جمع ہوئے۔ ہاتھی، بندر، ریچھ، خرگوش، ہرن اور لومڑی سب تماشہ دیکھنے آئے۔ شیر میدان میں اترا تو زمین پر دھول اڑنے لگی، جبکہ مچھر اترا تو کسی کو پتا بھی نہ چلا کہ وہ کہاں بیٹھا ہے!
شیر نے گرج کر کہا، ’’آؤ مچھر! دیکھتے ہیں تم میں کتنی طاقت ہے!‘‘
مچھر بولا، ’’بادشاہ سلامت! بس اپنی آنکھیں کھلی رکھیے گا، کہیں مقابلہ ختم ہونے کے بعد آپ کہیں کہ مجھے تو کچھ نظر ہی نہیں آیا!‘‘
یہ کہہ کر مچھر تیزی سے اڑا اور شیر کے کان کے پاس بھنبھنانے لگا۔
بزززززززز!
شیر نے پنجہ مارا، مگر مچھر بچ نکلا۔ شیر کا پنجہ اپنے ہی گال پر لگا!
بندر درخت سے لٹک کر ہنسا، ’’واہ بادشاہ سلامت! پہلا وار تو آپ نے اپنے ہی اوپر کر دیا!‘‘
شیر غصے سے لال ہو گیا۔ اس نے مچھر کو پکڑنے کے لیے ادھر ادھر چھلانگیں لگائیں، مگر مچھر کبھی اس کی ناک پر بیٹھتا، کبھی کان پر اور کبھی گردن پر۔ شیر جتنا غصہ کرتا، مچھر اتنا ہی خوش ہوتا۔
آخر مچھر نے شیر کی ناک پر بیٹھ کر اسے کاٹ لیا۔ شیر نے زور سے چھینک ماری:
’’آاااااااااچھووووو!‘‘
شیر کی چھینک سے لومڑی الٹ کر جھاڑی میں جا گری، بندر درخت سے لٹکتا رہ گیا اور خرگوش نے بھاگتے ہوئے کہا، ’’میں تو پہلے ہی کہتا تھا، یہ مقابلہ صحت کے لیے خطرناک ہے!‘‘
پورا جنگل قہقہوں سے گونج اٹھا۔
شیر تھک کر بیٹھ گیا۔ اس نے مچھر سے کہا، ’’بس کرو بھائی! تم نے تو میرا جینا حرام کر دیا۔ مان لیا کہ تم مجھ سے زیادہ چالاک ہو!‘‘
مچھر نے فخر سے کہا، ’’بادشاہ سلامت! آپ جسمانی طاقت میں مجھ سے بڑے ہیں، لیکن ہر مسئلے کا حل طاقت نہیں ہوتا۔ عقل اور حاضر دماغی بھی بہت بڑی طاقت ہیں!‘‘
تمام جانوروں نے مچھر کی بات کی تائید کی۔ جنگل میں انتخاب ہوا تو جانوروں نے مچھر کو اپنا نیا بادشاہ منتخب کر لیا۔
مچھر تخت پر بیٹھا تو ہاتھی نے پوچھا، ’’بادشاہ سلامت! اب جنگل کا نظام کیسے چلے گا؟‘‘
مچھر نے فوراً حکم دیا، ’’سب سے پہلے جنگل میں صفائی ہوگی، پانی جمع نہیں ہونے دیا جائے گا، اور ہر جانور کو اپنی بات کہنے کا حق ہوگا!‘‘
بندر نے تالیاں بجائیں اور بولا، ’’بادشاہ سلامت! ایک گزارش ہے۔ رات کو ہمارے کانوں میں بھنبھنانا بند کر دیں، ورنہ ہم نیند کے خلاف احتجاج کریں گے!‘‘
مچھر مسکرایا اور بولا، ’’فکر نہ کرو، اب میں صرف ضرورت کے وقت بھنبھناؤں گا!‘‘
شیر نے بھی اپنا غرور چھوڑ دیا اور مچھر کے ساتھ مل کر جنگل کی بہتری کے لیے کام کرنے لگا۔
یوں ایک ننھے سے مچھر نے ثابت کر دیا کہ بڑا ہونے سے کوئی بڑا نہیں بنتا، بلکہ عقل، حوصلے اور اچھے فیصلوں سے عزت حاصل ہوتی ہے۔









