تحریر: ارم شہزاد
کسی گھنے اور خوبصورت جنگل میں ایک بڑا سا دریا بہتا تھا۔ اس دریا کے کنارے ایک ننھی سی مکڑی رہتی تھی، جس کا نام مِنی تھا۔ مِنی بہت ذہین، محنتی اور شرارتی تھی۔ وہ درختوں کے درمیان خوبصورت جالے بناتی اور سارا دن چھوٹے موٹے کیڑے پکڑ کر اپنا پیٹ بھرتی تھی۔
اسی دریا میں ایک بھاری بھرکم مگرمچھ رہتا تھا، جس کا نام گجّو تھا۔ گجّو کو اپنی طاقت پر بہت غرور تھا۔ وہ جنگل کے ہر جانور کو ڈراتا اور ہر وقت اپنی بڑائی بیان کرتا رہتا۔
ایک دن گجّو دریا سے باہر نکلا تو اس کا پاؤں مِنی کے بنائے ہوئے خوبصورت جالے میں پھنس گیا۔ وہ زور زور سے چلانے لگا:
"ارے! یہ کس نے میرے راستے میں جال بچھایا ہے؟ مجھے فوراً باہر نکالو!"
مِنی درخت کے پیچھے سے نکلی اور ہنستے ہوئے بولی، "جناب گجّو! یہ کوئی عام جال نہیں، یہ میری محنت کا شاہکار ہے۔ ذرا دیکھ کر چلا کریں!"
گجّو غصے سے لال پیلا ہوگیا۔ اس نے کہا، "تم جیسی چھوٹی سی مکڑی میری طاقت کا مقابلہ کرے گی؟ میں ابھی تمہارا سارا جالا توڑ دوں گا!"
یہ سن کر مِنی نے بھی جواب دیا، "طاقت دکھانے سے کوئی بڑا نہیں بنتا، عقل بھی کوئی چیز ہوتی ہے!"
بس پھر کیا تھا! دونوں میں دشمنی شروع ہوگئی۔
اگلے دن گجّو نے مِنی کے درخت کے نیچے بیٹھ کر اسے ڈرانے کی کوشش کی۔ لیکن مِنی نے راتوں رات دریا کے کنارے ایک لمبا اور مضبوط جالا بنا دیا۔ جیسے ہی گجّو آگے بڑھا، اس کی ناک جالے میں پھنس گئی۔
گجّو زور زور سے چھینکنے لگا، "چھینک! چھینک! ارے میری ناک بچاؤ!"
یہ منظر دیکھ کر بندر مانو درخت سے الٹا لٹک کر ہنسنے لگا۔ طوطا میاں بولے، "واہ گجّو میاں! آج تو آپ کی ناک نے بھی جالے میں گھر بنا لیا!"
خرگوش چنٹو ہنستے ہوئے بولا، "لگتا ہے اب گجّو میاں کو ناک کے بجائے جالے سے سانس لینا پڑے گا!"
جنگل کے تمام جانور قہقہے لگانے لگے۔
گجّو کو بہت شرمندگی ہوئی۔ اس نے دل میں سوچا کہ اب مِنی سے بدلہ ضرور لینا ہے۔ اس نے ایک چال سوچی اور مِنی کو دریا کے کنارے دعوت دی۔
مِنی کو گجّو کی نیت پر شک تھا، مگر وہ اکیلی نہیں گئی۔ اس نے اپنے دوست بندر مانو، خرگوش چنٹو اور طوطے میاں کو بھی ساتھ لے لیا۔
گجّو نے موقع دیکھتے ہی پانی میں چھلانگ لگائی اور مِنی کو پکڑنے کی کوشش کی، لیکن مِنی فوراً ایک شاخ پر چڑھ گئی۔ گجّو کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
اسی دوران دریا کے کنارے ایک ننھا سا ہرن پھسل کر پانی میں جا گرا۔ وہ مدد کے لیے چیخنے لگا۔ تمام جانور پریشان ہوگئے۔ گجّو نے فوراً اپنی دشمنی بھلا دی اور ہرن کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر محفوظ کنارے تک پہنچا دیا۔
مِنی نے حیرت سے کہا، "گجّو میاں! آپ تو دل کے اتنے برے نہیں ہیں، پھر سب کو ڈراتے کیوں رہتے ہیں؟"
گجّو نے شرمندہ ہوکر سر جھکا لیا اور بولا، "مجھے معاف کردو مِنی! مجھے اپنی طاقت پر بہت غرور تھا۔ آج سمجھ آیا کہ کسی کو چھوٹا سمجھنا غلط ہے۔"
مِنی مسکرائی اور بولی، "اور مجھے بھی آپ سے لڑنے کے بجائے بات کرنی چاہیے تھی۔ اگر ہم دوست بن جائیں تو جنگل مزید خوبصورت ہوسکتا ہے!"
یہ سن کر بندر مانو نے خوشی سے چھلانگ لگائی اور بولا، "تو پھر دوستی کی خوشی میں کیلے کس طرف سے آئیں گے؟"
سب جانور ہنس پڑے۔ طوطا میاں نے زور سے کہا، "دوستی زندہ باد، دشمنی مردہ باد!"
اس دن کے بعد مِنی اور گجّو پکے دوست بن گئے۔ مِنی درختوں پر خوبصورت جالے بناتی اور گجّو دریا کے کنارے سب جانوروں کی حفاظت کرتا۔ اب جنگل میں لڑائی جھگڑے کے بجائے ہنسی خوشی کا ماحول رہنے لگا۔
کہانی سے سبق: کسی کو کمزور یا چھوٹا سمجھ کر اس کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔ اصل طاقت دوسروں کی مدد کرنے، غرور چھوڑنے اور مل جل کر رہنے میں ہے۔









