بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

پاکستان میں قرضوں پر سود 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ

SerialKiller

2030-31 تک یہ رقم 100 کھرب روپے تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

پاکستان میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ

اسلام آباد: پاکستان میں قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا حجم دفاعی اور ترقیاتی اخراجات سے بڑھ گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے دوران ان ادائیگیوں کا تخمینہ 80 کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ قرضوں کے سود میں اضافے سے قومی بجٹ اور دستیاب مالی وسائل پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیاں وفاقی حکومت کی آمدن کا بڑا حصہ استعمال کر رہی ہیں، جس کے باعث ترقیاتی منصوبوں اور دیگر سرکاری اخراجات کے لیے وسائل محدود ہو رہے ہیں۔

مالیاتی تخمینوں کے مطابق 2030-31 تک قرضوں پر سود کی سالانہ ادائیگیاں 100 کھرب روپے تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ قرضوں کی ادائیگیوں کے بعد وفاقی حکومت کے پاس دیگر اخراجات کے لیے تقریباً 30 کھرب روپے باقی رہنے کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا ہے۔

قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم اور ان پر سود کی ادائیگیوں کو ملکی مالیاتی نظام کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ اندرونی و بیرونی قرضوں کے سود پر قومی وسائل کا بڑا حصہ خرچ ہونے کے باعث مالی گنجائش محدود رہنے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق سودی ادائیگیوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ملکی قرضوں کے مجموعی حجم میں اضافہ ہے۔ درمیانی مدت میں بھی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا حجم بلند رہنے کا امکان ہے، جس سے حکومت کے لیے مالیاتی توازن برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب صوبائی سطح پر مالی خسارے میں کمی کی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم قرضوں کے سود کی ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا بوجھ قومی بجٹ کی منصوبہ بندی اور ترقیاتی اخراجات کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔

2026-10-29 59
Advertisement
Advertisement
Advertisement
×