کراچی: پاکستان میں ڈینگی کے کیسز سے متعلق ایک اہم تحقیقی مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد سرکاری اعداد و شمار کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوسکتی ہے۔
آغا خان یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق 2022 میں پاکستان میں ڈینگی کے تقریباً 32 لاکھ 80 ہزار کیسز کا تخمینہ لگایا گیا، جبکہ اسی سال سرکاری ریکارڈ میں صرف 25 ہزار 932 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس طرح تحقیقی تخمینے اور سرکاری اعداد و شمار میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔
10 سال میں ڈینگی کیسز میں بڑا اضافہ
تحقیقی مطالعے میں 2012 سے 2022 تک پاکستان میں ڈینگی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ملک بھر میں قائم 990 سے زائد تشخیصی لیبارٹری کلیکشن یونٹس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق 2012 میں ملک میں ڈینگی کے اندازاً ایک لاکھ کیسز تھے، جو 2022 تک بڑھ کر تقریباً 32 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئے۔ یوں ایک دہائی کے دوران ڈینگی کیسز میں تقریباً 33 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سندھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ قرار
مطالعے میں سندھ کو ڈینگی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ قرار دیا گیا۔ اندازے کے مطابق 2022 کے دوران سندھ میں تقریباً 26 لاکھ 30 ہزار کیسز سامنے آئے۔
اسی سال سندھ میں ہر ایک ہزار افراد میں 45.63 ڈینگی کیسز کی شرح کا تخمینہ لگایا گیا۔ ضلع کی سطح پر تھرپارکر میں ڈینگی کی شرحِ وقوع سب سے زیادہ رہی، جبکہ کراچی ایسٹ میں بھی شرح انتہائی بلند ریکارڈ کی گئی، جہاں ہر ایک ہزار افراد میں تقریباً 200.41 کیسز کا تخمینہ لگایا گیا۔
نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد زیادہ متاثر
تحقیق کے مطابق 15 سے 49 سال کی عمر کے افراد ڈینگی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروپ میں شامل رہے۔ اس عمر کے افراد میں تقریباً 16 لاکھ کیسز کا تخمینہ لگایا گیا۔
بلوچستان میں بھی 2022 کے دوران ڈینگی کے تقریباً 6 ہزار 785 کیسز رپورٹ ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
ڈینگی اب صرف موسمی بیماری نہیں
تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ڈینگی کی منتقلی اب صرف مخصوص موسم تک محدود نہیں رہی بلکہ سال بھر اس کے پھیلاؤ کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ستمبر، اکتوبر اور نومبر میں ڈینگی کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا، جبکہ 2019، 2021 اور 2022 کے دوران ملک میں ڈینگی کے کیسز میں نمایاں اضافے کے رجحانات سامنے آئے۔
صحت اور بلدیاتی اداروں میں رابطے کی ضرورت
محققین نے ڈینگی پر قابو پانے کے لیے صحت کے اداروں اور بلدیاتی محکموں کے درمیان بہتر رابطہ اور مؤثر حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔
تحقیق میں پالیسی سازوں کو موجودہ انسدادِ ڈینگی اقدامات کے ساتھ ساتھ ڈینگی ویکسینیشن کے آپشن پر بھی غور کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ بیماری کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جاسکے۔










