پنجاب میں 40 اسٹروک سینٹرز فعال، 15 مزید قائم کیے جا رہے ہیں، مریم نواز
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جنرل ہسپتال لاہور میں اسٹروک کارڈز تقسیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ فالج کے مریضوں کو بروقت علاج کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے اور فنڈز کی کمی کے باعث کسی مریض کا علاج نہیں رکنا چاہیے۔
اسٹروک کارڈز کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اتنی بڑی آبادی کی ذمہ داری سنبھالنا آسان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹروک پروگرام عام شہریوں کو سہولت فراہم کرنے اور فالج سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لیے شروع کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق فالج کے مریضوں کی بحالی اور بروقت علاج کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فالج کسی کو بتا کر نہیں آتا، اس لیے لوگوں کو اس کی علامات اور فوری طبی امداد کی اہمیت سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔
مریم نواز نے بتایا کہ صوبے کے 23 اضلاع میں 40 پرائمری اسٹروک سینٹرز فعال ہیں، جبکہ مزید 15 سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فالج کے علاج میں تاخیر مریض کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، جبکہ اس مرض کے علاج میں استعمال ہونے والے انجکشن کی قیمت تقریباً 3 لاکھ روپے ہونے کے باعث عام آدمی کے لیے اسے خریدنا مشکل ہے۔
وزیراعلیٰ نے صحت کے دیگر منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں کینسر کا ایک بڑا اسپتال قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ ہر ڈویژن میں کینسر سینٹرز بنانے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔ انہوں نے سرگودھا میں نواز شریف ہسپتال کی تعمیر اور صوبے کے 20 اضلاع میں کیتھ لیبز کے قیام کا بھی ذکر کیا۔
مریم نواز شریف کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران سرکاری اسپتالوں میں 10 کروڑ افراد نے علاج کرایا، جبکہ 10 کروڑ افراد کو مفت ادویات فراہم کی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں 16 ہزار بچوں کی دل کی سرجری بھی کی گئی ہے۔








