بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

پیما کا کلینکس میں ایف بی آر کے POS سسٹم پر اعتراض، پالیسی واپس لینے کا مطالبہ

SerialKiller

فوٹو: فائل

اسلام آباد: پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے کلینکس میں پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم کے نفاذ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پالیسی کو مسترد کر دیا ہے۔

پیما کے مرکزی صدر پروفیسر عاطف حفیظ صدیقی نے کہا ہے کہ ان کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات سے ڈاکٹرز پر غیر ضروری انتظامی دباؤ بڑھنے کے ساتھ مریضوں کی نجی معلومات کے تحفظ کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیما، POS نظام کے حوالے سے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطالبات کی حمایت کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طبی خدمات کو عام ریٹیل کاروبار کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان ہونے والا طبی معائنہ اور علاج ہر فرد کی ضرورت کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ پیما کے مطابق حساس طبی خدمات پر POS نظام کا اطلاق تکنیکی اور عملی اعتبار سے کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔

پروفیسر عاطف حفیظ صدیقی نے کہا کہ ڈاکٹرز پہلے ہی ٹیکس نظام کا حصہ ہیں اور سرکاری و نجی شعبے سے وابستہ طبی ماہرین سمیت بڑی تعداد میں ڈاکٹرز باقاعدگی سے ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں۔ ان کے مطابق ٹیکس کی ادائیگی قومی ذمہ داری ہے، تاہم بڑی پالیسیوں کو مرحلہ وار اور متعلقہ شعبے کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے ساتھ نافذ کیا جانا چاہیے۔

پیما کے صدر نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کلینکس پر اضافی انتظامی اور مالی تقاضے عائد کیے گئے تو اس کے اثرات بالآخر مریضوں کے علاج کے اخراجات پر پڑ سکتے ہیں اور طبی سہولیات مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے طبی شعبے میں مختلف ریگولیٹری اداروں کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نجی کلینکس پہلے ہی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC)، ہیلتھ کیئر کمیشنز اور متعلقہ ضلعی محکمہ صحت کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔ پیما کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے مزید انتظامی تقاضے عائد کرنے سے ڈاکٹرز اور طبی اداروں پر غیر ضروری دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

پروفیسر عاطف حفیظ صدیقی نے مریضوں کی رازداری کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اور مریض کا تعلق طبی معلومات کی رازداری پر قائم ہوتا ہے، اس لیے کسی بھی ایسے نظام کے نفاذ سے قبل حساس طبی ڈیٹا کے تحفظ اور اس تک رسائی کے معاملات کو واضح کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر POS نظام کے ذریعے مریضوں اور طبی خدمات سے متعلق معلومات ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ ہوتی ہیں تو ان معلومات کی حفاظت اور غیر متعلقہ افراد تک رسائی روکنے کے لیے کیا انتظامات کیے گئے ہیں۔

پیما نے مطالبہ کیا کہ کلینکس اور ہسپتالوں میں ایف بی آر کی جانب سے غیر ضروری چھاپوں اور ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کو ہراساں کرنے کے اقدامات روکے جائیں، جبکہ POS نظام کے نفاذ سے متعلق طبی شعبے کے نمائندوں سے بامعنی مشاورت کی جائے۔

2026-10-01 21
Advertisement
Advertisement
Advertisement
×