کراچی: سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول اور دیگر مصنوعات پر ٹیکس کے حوالے سے موجودہ پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا کہ دیگر اشیا پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح 18 فیصد ہے، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات پر حکومت کی جانب سے 30 فیصد لیوی وصول کی جا رہی ہے۔
سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سامنے یہ مؤقف اختیار کرسکتی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی شرح 18 فیصد تک رکھنے کی اجازت دی جائے۔
مفتاح اسماعیل نے حکومتی اخراجات اور بجٹ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر 30 ہزار ارب روپے کے مجموعی بجٹ میں سے صرف 30 ارب روپے کی بچت یا متبادل انتظام تلاش نہیں کیا جاسکتا تو اسے حکومتی کارکردگی کی ناکامی قرار دیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومت کو اپنے اخراجات اور محصولات کے نظام میں بہتری لانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔











