راولپنڈی: شہر کی خوبصورتی اور پارکس کی دیکھ بھال سے وابستہ ہارٹیکلچر ایجنسی راولپنڈی کے 236 ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کیے جانے کے بعد متاثرہ کارکنوں میں تشویش اور احتجاج پایا جاتا ہے۔
متاثرہ ملازمین میں مالی، گارڈز اور ڈرائیورز سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ کارکن شامل ہیں۔ ملازمین کا مؤقف ہے کہ ان میں سے متعدد افراد کئی برس سے ادارے میں خدمات انجام دے رہے تھے، تاہم انہیں برطرفی کی وجوہات کے بارے میں مناسب وضاحت فراہم نہیں کی گئی۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے شہر کے پارکس، گرین بیلٹس اور دیگر مقامات کی دیکھ بھال کے لیے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کے مطابق اچانک ملازمتوں کے خاتمے سے ان کے معاشی مسائل میں اضافہ ہوگیا ہے۔
برطرف ملازمین کا احتجاج
برطرفی کے نوٹس سامنے آنے کے بعد متاثرہ مالیوں اور گارڈز نے احتجاج کرتے ہوئے ملازمتوں پر بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے ملازمین کے مستقبل کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
ملازمین کی جانب سے ادارے کے انتظامی اور مالی معاملات میں شفافیت یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
مالی معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ
رپورٹ میں ہارٹیکلچر ایجنسی کے ٹھیکہ جاتی نظام، سرکاری وسائل کے استعمال اور ملازمین سے کام لینے کے طریقہ کار سے متعلق مختلف الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
متاثرہ کارکنوں اور بعض حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ادارے کے انتظامی و مالی معاملات کا مکمل آڈٹ کرایا جائے اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی سامنے آئے تو ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
انہوں نے کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی اور پنجاب حکومت سے معاملے کا نوٹس لینے اور برطرف ملازمین کے تحفظات دور کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
دوسری جانب ہارٹیکلچر ایجنسی کی انتظامیہ کا مؤقف اور 236 ملازمین کی برطرفی کی مکمل وجوہات اس رپورٹ میں شامل نہیں ہو سکیں۔ انتظامیہ کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔









