ہر شعبے میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں کچھ گندے اور کرپٹ لوگوں کی وجہ سے ادارے بدنام ہو جاتے ہیں ٹریول ایجنسی سے منسلک ہمارے دوست محمد وحید جو کاروانِ تمنّائے مدینہ کے زیر سایہ لوگوں کو حج و عمرہ کی ادائیگی کے لیے بھیجتے ہیں نے میسج کیا کہ راجہ صاحب ایجنٹ مافیا کے خلاف آواز بلند کریں مجھے انکا میسج سن کر پشیمانی بھی ہوئی کہ اس مافیا کے خلاف بہت پہلے صدا بلند ہونی چاہیے تھی مگر اب بھی تمام اہل قلم یک جان ہو کر مسلسل آواز بلند کریں گے تو ہی حکومت حرکت میں آئے گی کسی ایک کاوش سے کچھ بھی نہیں ہو گا
گزشتہ دنوں اسلامیہ یونیورسٹی کی ایک گولڈ میڈلسٹ طلباء کو ایک ایجنٹ نے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ بھیجنے کے سہانے خواب دکھائے اور اس بیٹی سے 70 لاکھ روپے طلب کیے وہ ایک محنت کش کی بیٹی تھی جس کا والد سارا دن سڑکوں پر دودھ کے ڈول لیے محنت مزدوری کر کے اپنی بچی کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہا تھا اس والد نے اپنا ایک پلاٹ فروخت کیا بچی کی والدہ کے زیورات فروخت کیے اور قریب 21 لاکھ روپیہ اس ایجنٹ کو بطور ٹوکن جمع کرا دیا پھر کیا ہونا تھا اس ایجنٹ نے غریب گھرانے کی خوشیوں کو لالچ کے پاؤں کے نیچے روند ڈالا جب بچی کو معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ بہت بڑا فراڈ ہو چکا ہے تو وہ مایوسی کے گہری دلدل میں چلی گئی اور اسی مایوسی میں اس نے درخت کے ساتھ لٹک کر خود کشی کر لی یہ صرف ایک واقعہ نہیں اس قسم کے بے شمار واقعات ہماری تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں مگر لمحہ فکریہ یہ ہے کہ آج تک کھلے عام نوجوان بچوں اور بچیوں سے بیرون ممالک روزگار دلانے بیرون ممالک مختلف یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے لیے بھیجنے کا جھانسہ دے کر لا تعداد فراڈ کے کیس ہمارے سامنے آ چکے ہیں مگر حکومت اور حکومتی ادارے ٹس سے مس ہونے کا نام نہیں لے رہے نہ جانے ہزاروں لوگوں کو بے دردی سے لوٹا جا چکا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے
ملک میں بڑھتی بے روزگاری غربت اور مہنگائی سے تنگ نوجوان جو یہاں سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مختلف کالجز اور یونیورسٹیوں سے ڈگریاں لے کر جب اپنے ملک میں نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں اور نوکری ملتی نہیں تو پھر ان کے پاس ماسوائے کسی باہر کے ملک میں جانے کے سوا اور کوئی چوائس باقی نہیں بچتی یہی وجہ ہے کہ آج ہم کسی بھی شہر کے پاسپورٹ آفس کے باہر صبح سویرے چلے جائیں تو سینکڑوں نوجوان بچے اور بچیاں لائنوں میں لگ کر اپنے پاسپورٹ بنوانے کے لیے ہمیں دکھائی دیتے ہیں اور جب ان نوجوان بچوں اور بچیوں سے آپ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ یہ پاسپورٹ بنوانے کے بعد آپ کس ملک جا رہے ہیں تو ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ فی الوقت ہم صرف پاسپورٹ بنوا رہے ہیں اس کے بعد ہم کسی ملک میں جانے کی کوشش کریں گے اسی مجبوری اور بے بسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے ملک میں سینکڑوں کی تعداد میں غیر رجسٹرڈ ایجنسیاں اور ٹریول ایجنٹس بغیر کسی خوف و خطرے کے دھڑلے کے ساتھ نوجوانوں سے لوٹ مار میں مصروف عمل ہیں
لوٹ کھسوٹ کا یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ پچھلے کئی عشروں سے جاری ہے 95 کی دہائی میں راقم الحروف سعودی عرب میں ایک سویڈش کمپنی میں ملازمت کرتا تھا انہی دنوں کمپنی میں ایک ٹیلی فون آپریٹر کی ویکنسی خالی ہوئی اس خالی ویکنسی پر مختلف ممالک کے لوگوں نے آپلائی کرنا شروع کر دیا کسی دوست کے ریفرنس سے میرے پاس ایک لاہور کا نوجوان پہنچا اور اس نے اپنی فریاد سناتے ہوئے کہا کہ لاہور سے مجھے ایک پاکستانی ایجنٹ نے 7 لاکھ روپیہ لے کر سعودی عرب میں آفس سیکرٹری کی نوکری کا جھانسہ دے کر بھیجا ہے میں کیونکہ ایک غریب فیملی سے تعلق رکھتا ہوں تو میں نے اپنی والدہ کا زیور فروخت کیا زیور فروخت کر کے اس ایجنٹ کو پیسے دیے جب میں سعودی عرب یہاں پر پہنچا تو اگلے دن میں نے دفتر جانے کے لیے پینٹ شرٹ اور ٹائی لگائی میرا سعودی کفیل میرے پاس پہنچا تو مجھے دیکھ کر زور زور سے قہقہے لگانے لگا میں حیران ہوا کہ یہ مجھے دیکھ کر اس طریقے سے کیوں قہقہے لگا رہا ہے کفیل نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ پاکستانی ایجنٹ نے تمہیں کس نوکری پر یہاں بھیجا ہے تو میں نے جواب دیا کہ اس نے مجھے آفس سیکریٹری کی جاب کا بتایا تھا جس پر پھر وہ سعودی ہنسنے لگا اور کہا کہ پاکستانی ایجنٹ (کچھ ) لفظ کچھ میں اپنی طرف سے لکھ رہا ہوں ) بہت ہی حرامی ہوتے ہیں میرے پاس یہاں کوئی آفس نہیں نہ ہی آفس جاب ہے بلکہ تم نے صحرا میں میرے اونٹوں کو چرنے کے لیے لیکر جانا ہے اور تمہاری 700 ریال ماہانہ تنخواہ ہوگی یہ درد بھری کہانی بتاتے ہوئے وہ نوجوان پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا
آج اس واقعے کو 30 سال گزر گئے اور کچھ حرامی چلتے پھرتے ایجنٹوں کی طرف سے لوگوں کو لوٹنے کا سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے ہماری حکومت کی ایک بات ماننی پڑے گی کہ جب بھی کوئی بڑا حادثہ رونما ہوتا ہے تو ہماری حکومت اور ہمارے ادارے فوری طور پر بھلے چند دنوں کے لیے ہی سہی حرکت میں ضرور آ جاتے ہیں اور اب کے بار بھی یہیں کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے ایک گولڈ میڈلسٹ بچی کی جان چلی گئی ایک غریب گھرانہ لٹ گیا تو ہمارے ادارے حرکت میں آئے اور اس ظالم ایجنٹ کو بالاآخر گرفتار کر لیا گیا
مگر اس ایک گرفتاری سے عشروں سے پھیلا ہوا گند کسی صورت صاف نہیں ہو سکتا اس گند اور مافیا کو صاف کرنے کے لیے حکومتی اداروں کو ایک منظم طریقے سے قانونی کاروائیوں کا آغاز کرنا پڑے گا جتنے بھی ٹریول ایجنسیاں اور ایجنٹ جو کہ غیر رجسٹرڈ ہیں جن کا کوئی ریکارڈ حکومتی اداروں کے پاس نہیں انہیں فوری طور پر سیل کر کے ان ایجنٹس کو گرفتار کیا جائے اور انہیں عبرت ناک سزائیں دی جائیں
پاکستان میں صرف وہیں ٹریول ایجنسی اور ایجنٹ کام کر سکیں جن کی باقاعدہ رجسٹریشن ہے جو حکومت کے آگے جوابدہ ہیں اور کسی بھی نئی ٹریول ایجنسی کا لائسنس جاری کرنے سے پہلے اس کی لاکھوں میں سکیورٹی جمع ہونی چاہیے تاکہ اگر رجسٹرڈ ٹریول ایجنسی سے کسی شہری کے ساتھ فراڈ ہوتا ہے تو اس جمع شدہ سیکیورٹی فیس سے اس شہری کی داد رسی کی جا سکے
ہماری حکومت وقت سے استدعا ہے کہ اس نیک کام میں مزید دیر نہ کی جائے










