ملک میں مہنگائی غربت بے روزگاری آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے انڈسٹری کا پہیہ جام ہو چکا ہے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے نوکریوں کے حصول کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں سفید پوش طبقے کو اپنا بھرم قائم رکھنا اب مشکل ہو چکا ہے
حکومت کی ترجیحات سمجھ سے بالاتر ہیں کھبی کڑروں روپے بازاروں کے حسن پر لگا دیے جاتے ہیں کھبی اربوں روپے کی بسیں چلا دی جاتی ہیں آرام دہ سفری سہولیات کی کوئی بھی مخالفت نہیں کرے گا مگر اس صورت میں جب ملک میں بنیادی سہولیات کا فقدان نہ ہو علاج معالجہ کی بنیادی سہولیات پینے کا صاف پانی روٹی کپڑا مکان اور روزگار ہر شہری کا بنیادی حق ہے ریاست جب یہ سب چیزی دینے کے قابل ہو جائے تو پھر پیسے جہاں مرضی خرچ کرے کسی کو کوئی شکوہ نہیں ہو گا
اس وقت وطن عزیز میں سب سے پریشان کاروباری طبقہ ہے کاروبار تقریباً ختم ہو چکے ہیں جس کی وجہ بھی عوام کا خوشحال نہ ہونا ہے جب ایک مہینے کا گزارہ ہی مشکل ہو جائے گا تو شہری بازاروں کا رخ کیسے کریں گے خریداری کہاں سے کریں گے
ملک میں دہرے قانون کا خاتمہ بھی وقت کی ضرورت ہے ہمارے ہاں غریب کے الگ قانون ہے امیر کے لیے الگ قانون ہے جو اچھے روزگار پر لگا ہوا ہے مہینے کا لاکھوں روپے کما رہا ہے اسے بجلی گیس پٹرول بھی مفت مل رہا ہے جو مہینے کا 20 سے 30 ہزار کماتا ہے اس کے گھر بجلی گیس ٹیلی فون واسا اور اب خیر سے صاف و ستھرا پنجاب والوں کی تنخواہیں اور دیگر مراعات پوری کرنے کے لیے ایک نئے بل کا اضافہ جلد متوقع ہے
وزیر اعلی پنجاب ہر دوسرے دن ایک نیا محکمہ کھڑا کر رہی ہیں پھر ان محکموں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے غریبوں کے جیبوں پر ہاتھ صاف کیے جاتے ہیں
کہا جاتا ہے کہ مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے میں اس سے بالکل متفق ہوں مگر دیگر ممالک جن میں مہنگائی ہے وہاں روزگار اور کاروبار کے مواقعے بھی موجود ہیں وہاں مہینے کے بعد بندہ اتنا کما لیتا ہے کہ مہنگائی کا زیادہ رونا نہیں رویا جاتا مہنگائی ان ممالک میں بہت کم ڈسکس کی جاتی ہے مگر ہمارے ہاں ہر روز آلو پیاز ٹماٹر اور سبزیاں مہنگی ہونے کا رونا رویا جاتا ہے کیونکہ ایک مزدور جو آج سے 20 سال پہلے 25 ہزار روپیہ تنخواہ لے رہا تھا اس کی تنخوآہ آج بھی 35 سے 40 ہزار روپے ہے
فائیو جی کے دور میں سرکار پیسہ بسوں سڑکوں اور پلوں پر لگانے کے بجائے ٹیکنیکل ایجوکیشن پر خرچ کرے ہر شہر میں ایک سے دو ٹیکنیکل کالجز بنائے جائیں تاکہ نوجوان بچے اور بچیاں جو ہر سال لاکھوں کی تعداد میں یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہو کر ڈگریاں لیے نوکریوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں وہ سکیل سیکھنے کے لیے بھی رخ کریں ہنر سیکھ کر اپنے ہاتھ سے روزگار کمائیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو پائیں
ہماری خواتین بڑی باہمت اور حوصلوں والی ہیں انہیں اپنے اپنے گھروں میں روزگار مہیا کرنے کے لیے آسان اقساط پر بغیر سود کے پیسے دیے جائیں تاکہ وہ محنت کرکے اپنے خاوند کا ہاتھ بٹھا سکیں مگر ہمارے ہاں الٹ ہو رہا ہے خواتین کو ہر مہینے بے نظیر انکم سپورٹ کے پروگرام کے تحت 5 سے 8 ہزار دینے کے لیے لائنوں میں کھڑا کیا جا رہا ہے دوسرے لفظوں میں لوگوں کو بھکاری بنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے
سرکار اپنے اخراجات کو بھی کنٹرول کریں ایک ایک سرکاری افسر کے لیے لاکھوں کی گاڑیاں پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے سیاست دانوں کی لاکھوں روپے کی تنخواہیں جس پر وہ ابھی بھی مطمئن نظر نہیں آتے پچھلے دنوں ایک خاتون رکن قومی اسمبلی کا بیان نظروں سے گزرا جس میں وہ فرما رہی تھی کہ میری غالباً پانچ یا چھ لاکھ روپے کی جو تنخواہ ہے اس میں میرا گزارا نہیں ہو سکتا آپ اندازہ لگائیں کہ ایک کلاس لاکھوں کی تنخواہیں لیکر بھی گزارہ نہیں کر پا رہی جبکہ ایک کلاس کے لیے ماہانہ آمدنی 8 ہزار مقررہ کی گئی ہے کہ جو شہری ماہانہ 8 ہزار کماتا ہے اسے ملک پاکستان میں خوشحال تصور کیا جائے اس سے بڑا بھیانک مذاق عوام کے ساتھ اور کیا ہو سکتا ہے
جب تک ان معاشرتی ناانصافیوں کا خاتمہ نہیں ہو گا ملک میں خوشحالی نہیں آئے گی سرکار رحم فرمائے اور سفید پوش طبقے کا بھرم جو کہ آخری ہچکیاں لے رہا ہے اسے ٹوٹنے سے بچایا جائے










