تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ
تاریخ کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ہر عہد کا ظالم خود کو ابدی سمجھتا ہے اور ہر عہد کا مظلوم خود کو تنہا، مگر وقت کا فیصلہ ہمیشہ دونوں کے گمان کے برعکس ہوتا ہے۔ ظالم اپنے محلات، لشکروں اور اقتدار کے باوجود تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جاتا ہے جبکہ حق کے لیے قربانی دینے والے صدیوں بعد بھی انسانیت کے ماتھے کا جھومر بنے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا محض 61 ہجری کا ایک واقعہ نہیں بلکہ ظلم کے خلاف انسان کے اعلانِ آزادی کا وہ استعارہ ہے جو ہر دور میں نئے معنی کے ساتھ زندہ ہو جاتا ہے۔ جب بھی اقتدار اخلاقیات پر غالب آنے لگتا ہے، جب قانون انصاف کے بجائے حکمرانوں کے مفادات کا محافظ بن جاتا ہے، جب کمزور کی فریاد ایوانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے اور جب انسانی وقار سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھنے لگتا ہے تو کربلا پھر سے زندہ ہو جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جسے جوش ملیح آبادی نے اپنے آتشیں لہجے میں یوں بیان کیا:
"جب حکومت قصر ہائے معدلت ڈھانے لگے
جب غرورِ اقتدار اقدار پہ چھانے لگے
خسروی آئین پر جب آگ برسانے لگے
جب حقوقِ نوعِ انسانی پہ آنچ آنے لگے
رن میں در آ بازوئے خیبر شکن سے کام لے
ان مواقع پر حسینی بانکپن سے کام لے"
یہ اشعار محض شاعری نہیں، ایک سیاسی و اخلاقی منشور ہیں۔ جوش یہاں صرف ایک تاریخی واقعہ یاد نہیں دلا رہے بلکہ ایک اصول بیان کر رہے ہیں: جب ظلم ریاستی طاقت کا روپ دھار لے تو مزاحمت عبادت بن جاتی ہے۔ جب انصاف کے دروازے بند کر دیے جائیں تو خاموشی دانشمندی نہیں بلکہ بزدلی شمار ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کربلا کی جنگ دو افراد کے درمیان اقتدار کی کشمکش نہیں تھی، اگر معاملہ اقتدار کا ہوتا تو امام حسینؑ بیعت کر کے آرام و آسائش کی زندگی گزار سکتے تھے، لیکن مسئلہ اقتدار کا نہیں، اصول کا تھا؛ مسئلہ حکومت کا نہیں، انسانیت کی اخلاقی بنیادوں کا تھا۔ امام حسینؑ نے یہ واضح کر دیا کہ جب ریاست ظلم کا آلہ بن جائے تو اس کے سامنے سر جھکانا دین، اخلاق اور انسانیت تینوں سے غداری ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ظلم کبھی مستقل کامیاب نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ظالم کمزور ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کہ ظلم فطرتِ انسانی کے خلاف ہوتا ہے۔ جو نظام انصاف کے بجائے جبر پر کھڑے ہوں، جو حکومتیں عوامی اعتماد کے بجائے خوف کے سہارے قائم ہوں اور جو معاشرے سچائی کے بجائے پروپیگنڈے سے چلائے جائیں، ان کی بنیادیں اندر سے کھوکھلی ہوتی ہیں۔ اسی حقیقت کو جوش نے نہایت بلیغ انداز سے بیان کیا ہے:
"بے درد کی حسرت کو نکلتے نہیں دیکھا
کاغذ کی کبھی ناؤ کو چلتے نہیں دیکھا
ظالم کو کبھی پھولتے پھلتے نہیں دیکھا
ٹھوکر ہے یہ وہ جس سے سنبھلتے نہیں دیکھا
وہ تخت ہے کس قبر میں وہ تاج کہاں ہے
اے خاک بتا زورِ یزید آج کہاں ہے"
ذرا تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھیے۔ سکندر کی سلطنت کہاں گئی؟ چنگیز کے لشکر کہاں ہیں؟ ہٹلر کی طاقت کیا ہوئی؟ سوویت یونین کی آہنی گرفت کہاں ہے؟ کتنے ہی جابر حکمران اپنے زمانے میں ناقابلِ شکست سمجھے جاتے تھے لیکن آج ان کے نام صرف عبرت کے طور پر باقی ہیں۔ اس کے برعکس سقراط، حسینؑ، منصور، منڈیلا اور دنیا کے دوسرے حق پرست لوگ آج بھی زندہ ضمیروں کی علامت ہیں۔ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ تلوار کی دھار پر نہیں بلکہ اخلاقی سچائی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ مگر ظلم کی کامیابی کا ایک سبب ضرور ہوتا ہے اور وہ ہے عوام کی خاموشی۔ کوئی آمر صرف اپنی طاقت سے مضبوط نہیں ہوتا، اسے خاموش تماشائیوں کی فوج بھی درکار ہوتی ہے۔ جابر حکمرانوں کے محلوں کی اینٹیں عوام کے خوف، مفاد پرستی اور بے حسی سے جڑی ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جوش نے قوم کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا:
"اے قوم وہی پھر ہے تباہی کا زمانہ
اسلام ہے پھر تیرِ حوادث کا نشانہ
کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ
تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہ
مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو
لازم ہے کہ ہر فرد حسین ابن علی ہو"
یہاں "ہر فرد حسین ابن علی ہو" کا مطلب نسبی تعلق نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی وابستگی ہے۔ ہر فرد میں اتنی جرات ہو کہ وہ جھوٹ کو جھوٹ کہہ سکے۔ اتنی غیرت ہو کہ وہ ناانصافی کے سامنے خاموش نہ رہے۔ اتنی دیانت ہو کہ وہ ذاتی مفاد پر اجتماعی حق کو ترجیح دے۔ اتنی استقامت ہو کہ نقصان اٹھا لے مگر اصول نہ بیچے۔ آج اگر ہم اپنے معاشروں پر نظر ڈالیں تو ہمیں کربلا کے کئی روپ دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں غربت کے ہاتھوں پسے ہوئے لوگ ہیں، کہیں انصاف کے لیے برسوں عدالتوں کے چکر کاٹنے والے شہری ہیں، کہیں آزادیِ اظہار پر قدغنیں ہیں، کہیں طاقتور کے لیے الگ قانون اور کمزور کے لیے الگ قانون ہیں۔ ایسے حالات میں محض ماتم کافی نہیں، حسینی فکر کو عملی زندگی میں نافذ کرنا ضروری ہے۔ یاد رکھیے! حسینؑ سے محبت کا سب سے بڑا ثبوت آنسو نہیں بلکہ کردار ہے۔ اگر زبان حسینؑ کا نام لے اور عمل یزیدی نظام کو تقویت دے تو یہ محبت نہیں، خود فریبی ہے۔ حسینؑ کا راستہ سچائی، انصاف، آزادی اور انسانی وقار کا راستہ ہے۔ اس راستے پر چلنے کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے، قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور کبھی کبھی تنہا بھی کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ واقعہ کربلا ہمیں سکھاتا ہے کہ میدانِ حق میں تعداد نہیں دیکھی جاتی، حق کی صداقت دیکھی جاتی ہے۔ باطل کے پاس لشکر تھے، وسائل تھے، حکومت تھی، ذرائع تھے، مگر حسینؑ کے پاس سچ تھا۔ اور تاریخ نے ثابت کر دیا کہ سچ کی طاقت تلوار کی طاقت سے کہیں زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود دنیا بھر کے مظلوم جب آزادی کا خواب دیکھتے ہیں تو انہیں کربلا یاد آتی ہے، جب وہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو انہیں حسینؑ یاد آتے ہیں، اور جب وہ جابر قوتوں کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں تو گویا تاریخ ایک بار پھر اعلان کرتی ہے کہ یزیدیت وقتی ہے مگر حسینیت ابدی۔ سوال یہ نہیں کہ کربلا میں کون جیتا اور کون ہارا۔ سوال یہ ہے کہ آج ہم کس طرف کھڑے ہیں؟ حق کے ساتھ یا طاقت کے ساتھ؟ اصول کے ساتھ یا مفاد کے ساتھ؟ حسینؑ کے ساتھ یا یزید کے ساتھ؟
کیونکہ تاریخ کے ہر دور میں کربلا برپا ہوتی ہے، کردار بدل جاتے ہیں مگر امتحان وہی رہتا ہے۔ سوچیں ذرا سوچیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟










