بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

Advertisement

جب باغ کے مالی سو جائیں: معاشرتی برائیوں کے اثرات اور ان کا تدارک

جب باغ کے مالی سو جائیں: معاشرتی برائیوں کے اثرات اور ان کا تدارک

کہتے ہیں کسی بستی کے بیچوں بیچ ایک وسیع و عریض باغ تھا۔ اس باغ کی رونق اس کے رنگ برنگے پھول، سایہ دار درخت، چہچہاتے پرندے اور شفاف چشمے تھے۔ دور دراز سے لوگ اس باغ کی خوشبو سونگھنے اور اس کی خوبصورتی دیکھنے آتے تھے۔ ایک دن باغ کے مالیوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب باغ اتنا مضبوط ہوچکا ہے کہ اسے کسی نگہبانی کی ضرورت نہیں۔ چند دنوں کی غفلت نے کانٹوں کو جنم دیا، پھر خودرو جھاڑیاں اگ آئیں، زہریلی بیلیں درختوں سے لپٹ گئیں، چشموں کا پانی آلودہ ہوگیا اور پرندے ایک ایک کرکے باغ چھوڑ گئے۔ جب مالیوں کی آنکھ کھلی تو باغ تو وہی تھا مگر اس کی روح مرچکی تھی۔یہ باغ دراصل ہر معاشرے کی علامت ہے اور اس کے مالی ہم سب ہیں۔ معاشرے بھی اچانک تباہ نہیں ہوتے، ان کی بنیادیں اس وقت کمزور ہونا شروع ہوتی ہیں جب برائی کو معمول، بددیانتی کو ذہانت، جھوٹ کو مصلحت اور ظلم پر خاموشی کو حکمت سمجھ لیا جائے۔ اخلاقی زوال کی ابتدا ہمیشہ خاموش ہوتی ہے لیکن اس کے نتائج ایک طوفان کی صورت میں پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔آج ہمارا معاشرہ بھی اسی باغ کے مانند ہے۔ بظاہر عمارتیں بلند ہیں، بازار آباد ہیں، ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے مگر کردار کی زمین جگہ جگہ بنجر دکھائی دیتی ہے۔ سچ بولنے والا سادہ لوح سمجھا جاتا ہے، دیانت دار شخص غیر عملی کہلاتا ہے جبکہ دھوکے اور فریب کو کامیابی کا ہنر تصور کیا جانے لگا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب قومیں باہر سے نہیں، اندر سے شکست کھاتی ہیں۔معاشرتی برائیاں کبھی تنہا نہیں آتیں۔ جھوٹ کے پیچھے بداعتمادی، رشوت کے پیچھے ناانصافی، حسد کے پیچھے نفرت، اور بے حیائی کے پیچھے خاندانی نظام کی کمزوری جنم لیتی ہے۔ یہ برائیاں دیمک کی طرح ہوتی ہیں جو لکڑی کو باہر سے نہیں بلکہ اندر سے کھوکھلا کرتی ہیں۔ جب تک نقصان ظاہر ہوتا ہے، عمارت اپنی مضبوطی کھو چکی ہوتی ہے۔اسلام نے اسی لیے سب سے پہلے انسان کے باطن کی اصلاح پر زور دیا۔ قرآن مجید میںارشادِ باری تعالیٰ ہے:"

إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ"

یعنی اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلےیہ آیت ایک آفاقی اصول بیان کرتی ہے کہ معاشروں کی تقدیر پارلیمنٹوں، عدالتوں یا بازاروں سے پہلے انسان کے ضمیر میں لکھی جاتی ہے۔ اگر ضمیر زندہ ہو تو قوانین کم بھی ہوں تو انصاف قائم رہتا ہے اور اگر ضمیر مر جائیں تو سخت ترین قوانین بھی معاشرے کو نہیں بچا سکتےرسولِ اکرم ﷺ نے معاشرتی اصلاح کو ایمان کا حصہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص برائی دیکھے، اسے اپنے ہاتھ، زبان یا کم از کم دل سے برا جانے۔ گویا ایک مسلمان صرف اپنی ذات کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کا بھی ذمہ دار ہے۔ خاموش تماشائی بن جانا دراصل برائی کو قوت فراہم کرنا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی تباہی ہمیشہ دشمن کی تلوار سے نہیں ہوئی بلکہ اپنے کردار کی کمزوری سے ہوئی۔ اندلس کی عظمت اس وقت ختم ہوئی جب عیش و عشرت نے جہد و عمل کی جگہ لے لی۔ بغداد کی علمی شان اس وقت ماند پڑ گئی جب اختلاف، تعصب اور خود غرضی نے اتحاد کو شکست دی۔ ہر دور کی تاریخ یہی کہتی ہے کہ اخلاقی شکست، عسکری شکست سے کہیں پہلے واقع ہو جاتی ہے۔ادب بھی معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے جب قوم کی بے حسی دیکھی تو پکار اٹھے:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

یہ شعر محض شعر نہیں، ایک اجتماعی فلسفہ ہے۔ قوم کا مستقبل کسی ایک رہنما، ایک قانون یا ایک ادارے کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ہر فرد کے کردار میں پوشیدہ ہے۔

شیخ سعدیؒ نے انسانی رشتوں کی حقیقت کو یوں بیان کیا:

بنی آدم اعضائے یک دیگرند

کہ در آفرینش ز یک گوہرند

اگر جسم کا ایک عضو بیمار ہو تو پورا جسم بے چین ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر معاشرے کا ایک طبقہ ظلم، جہالت، غربت یا بے راہ روی کا شکار ہو تو اس کی تکلیف پورے معاشرے کو متاثر کرتی ہے۔معاشرتی برائیوں کا علاج بھی کسی جادوئی نسخے میں نہیں بلکہ مسلسل اجتماعی جدوجہد میں پوشیدہ ہے۔ اصلاح کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، جہاں والدین صرف کامیابی نہیں بلکہ کردار کا سبق دیں۔ تعلیمی ادارے ڈگریوں کے ساتھ دیانت داری، برداشت اور ذمہ داری بھی سکھائیں۔ علماء اپنے منبروں سے محبت، عدل اور اخوت کا پیغام عام کریں۔ میڈیا سنسنی کے بجائے شعور پیدا کرے اور ریاست بلا امتیاز قانون نافذ کرے تاکہ نیکی کو تحفظ اور برائی کو سزا ملے۔لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پہلا قدم کون اٹھائے؟ اس کا جواب ایک اور تمثیل میں پوشیدہ ہے۔ اگر اندھیری رات میں ہر شخص یہ کہہ کر اپنا چراغ نہ جلائے کہ پہلے دوسرا روشنی کرے تو پوری بستی تاریکی میں ڈوبی رہے گی۔ تاہم اگر ایک شخص بھی اپنا چراغ روشن کر دے تو اندھیرے کی شکست کا آغاز ہو جاتا ہے۔ معاشروں کی اصلاح بھی ایسے ہی ہوتی ہے۔ ایک سچا انسان، ایک دیانت دار استاد، ایک انصاف پسند قاضی، ایک ذمہ دار صحافی، ایک باکردار تاجر اور ایک صالح نوجوان مل کر وہ روشنی پیدا کرتے ہیں جو نسلوں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم صرف معاشرتی برائیوں کا نوحہ پڑھیں بلکہ اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں۔ اگر ہر شخص اپنی زبان کو جھوٹ سے، اپنے ہاتھ کو ظلم سے، اپنی نظر کو برائی سے اور اپنے دل کو حسد سے پاک کرنے کا عزم کر لے تو معاشرے کی اصلاح کسی خواب کی تعبیر نہیں رہے گی بلکہ ایک زندہ حقیقت بن جائے گی۔کیونکہ قوموں کی قسمت میدانِ جنگ میں کم اور کردار کی آبیاری میں زیادہ لکھی جاتی ہے۔ باغ کو پھر سے مہکانا ہے تو کانٹوں پر افسوس کرنے کے بجائے مالی کو بیدار ہونا ہوگا اور وہ مالی کوئی اور نہیں، ہم سب ہیں۔

یاسمین اختر طوبیٰ 52
Advertisement
Advertisement

مکہ مکرمہ پر حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور ہوگا: فضل الرحمان

نواز شریف نے ڈاکٹر نجیب نقی خان کو صدر آزاد کشمیر کے لیے نامزد کردیا

جیکب آباد میں 12 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس

ڈیرہ غازی خان میں اینٹی کرپشن کا چھاپہ، ٹیوٹا افسر مبینہ رشوت لیتے گرفتار

مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش ناقابل قبول ہے: شیری رحمان

وزیراعظم شہباز شریف سے فرانس کے سبکدوش سفیر کی الوداعی ملاقات

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف

Advertisement
×