پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات دنیا کی ان منفرد دوستیوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی بنیاد محض سفارتی مفادات یا وقتی ضروریات پر نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ، مذہبی و ثقافتی قربت، باہمی اعتماد، احترام اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی روایت پر استوار ہے۔ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے لیے محبت، اخوت اور خیرخواہی کے جذبات رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاست میں تبدیلیوں، علاقائی حالات اور معاشی چیلنجز کے باوجود پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات مسلسل مضبوط ہوتے رہے ہیں۔ آج دونوں ممالک ایک دوسرے کو قابلِ اعتماد دوست اور اہم اسٹریٹجک شراکت دار تصور کرتے ہیں۔
جمہوریہ ترکیہ کے قیام کی 103ویں سالگرہ کے موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی جانب سے ترک صدر رجب طیب ایردوان، وزیر خارجہ حاقان فیدان، حکومت اور برادر ترک عوام کو دلی مبارکباد اسی تاریخی دوستی اور باہمی احترام کا اظہار ہے۔ انہوں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ترک عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ان کا پیغام اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض روایتی سفارت کاری تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ انہیں ایک مضبوط، جامع اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
نائب وزیراعظم نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات مشترکہ تاریخ، باہمی اعتماد اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہری محبت پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک نے مشکل ادوار میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور یکجہتی کا یہی غیرمتزلزل جذبہ آج بھی دوطرفہ تعلقات کی پہچان ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے روابط ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں اور پاکستان انہیں مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ یہ پیغام دونوں ممالک کے درمیان سیاسی ہم آہنگی اور مستقبل کے مشترکہ اہداف کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ترکیہ کی قومی تاریخ میں 29 اکتوبر 1923 ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جب مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں جمہوریہ ترکیہ کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ یہ دن ترک عوام کی جدوجہد، قومی خودمختاری، اتحاد اور ایک جدید ریاست کی تعمیر کے عزم کی علامت ہے۔ ہر سال یومِ جمہوریہ ترکیہ میں قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ موقع ترک عوام کو ان قربانیوں اور کوششوں کی یاد دلاتا ہے جن کے نتیجے میں جدید ترکیہ نے اپنی سیاسی، اقتصادی اور سماجی شناخت کو مستحکم کیا۔
گزشتہ ایک صدی کے دوران ترکیہ نے تعلیم، صنعت، دفاع، سائنس و ٹیکنالوجی، مواصلات، توانائی اور بنیادی ڈھانچے سمیت متعدد شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ اس نے اپنی جغرافیائی اہمیت کو بروئے کار لاتے ہوئے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک اہم رابطہ ریاست کے طور پر بھی اپنی حیثیت مضبوط کی ہے۔ آج ترکیہ عالمی سیاست، علاقائی سفارت کاری، دفاعی پیداوار اور اقتصادی تعاون میں ایک نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کی ترقی کا سفر پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی تجربات اور امکانات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی تاریخی بنیادیں قیامِ پاکستان سے پہلے کے دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں نے تحریکِ خلافت کے زمانے میں سلطنتِ عثمانیہ کے ساتھ گہری وابستگی کا اظہار کیا تھا۔ اس دور میں مسلمانوں نے ترک عوام کی مشکلات کو اپنی مشکلات سمجھا اور ان کی حمایت کے لیے مختلف طریقوں سے کردار ادا کیا۔ اس تاریخی وابستگی نے برصغیر کے مسلمانوں اور ترک عوام کے درمیان قربت، احترام اور ہمدردی کے جذبات کو فروغ دیا۔ بعد ازاں قیامِ پاکستان کے بعد یہی جذبات دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی مضبوط بنیاد بنے۔
پاکستان کے قیام کے بعد ترکیہ نے پاکستان کے ساتھ دوستانہ سفارتی تعلقات قائم کیے اور دونوں ممالک نے مختلف علاقائی و عالمی معاملات میں تعاون کی روایت کو آگے بڑھایا۔ وقت کے ساتھ اعلیٰ سطح کے دوروں، سفارتی مشاورت، مشترکہ اجلاسوں اور دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے تعلقات کو وسعت دی گئی۔ عالمی حالات میں تبدیلیوں کے باوجود دونوں ممالک نے باہمی رابطوں کو برقرار رکھا اور اپنے مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کیا۔
پاکستان اور ترکیہ کی دوستی کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں بلکہ عوامی جذبات میں بھی گہری جڑیں رکھتی ہے۔ پاکستانی عوام ترکیہ کی کامیابیوں کو خوشی سے دیکھتے ہیں، جبکہ ترک عوام بھی پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ دونوں معاشروں میں ایک دوسرے کی تاریخ، ثقافت اور روایات کے بارے میں دلچسپی پائی جاتی ہے۔ یہی عوامی وابستگی سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد دونوں ممالک کی دوستی کا اہم پہلو ہے۔ قدرتی آفات اور انسانی بحرانوں کے مواقع پر پاکستان اور ترکیہ نے باہمی ہمدردی اور تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔ فروری 2023 میں ترکیہ اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد پاکستان نے ترکیہ کے متاثرہ عوام کے لیے امدادی سامان، امدادی سرگرمیوں اور انسانی معاونت کا انتظام کیا۔ پاکستانی عوام نے بھی متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمدردی اور تعاون کا اظہار کیا۔ اسی طرح پاکستان میں قدرتی آفات کے موقع پر ترکیہ کی جانب سے امدادی سرگرمیاں دونوں ممالک کے مخلصانہ تعلقات کی عکاس رہی ہیں۔
یہ واقعات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ حقیقی دوستی کا امتحان خوشحالی کے زمانے میں نہیں بلکہ مشکلات کی گھڑی میں ہوتا ہے۔ جب کوئی ملک دوسرے ملک کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے عملی تعاون فراہم کرتا ہے تو اس سے باہمی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان یہی جذبہ ان کے تعلقات کو عام سفارتی روابط سے ممتاز بناتا ہے۔
دونوں ممالک کے تعلقات اب جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد سیاسی رابطوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم، صنعت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ موجودہ عالمی ماحول میں کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے معاشی استحکام، جدید ٹیکنالوجی، صنعتی خودکفالت اور مضبوط بین الاقوامی روابط بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ اپنے تجربات اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر ایک دوسرے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دفاعی تعاون پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کا ایک اہم شعبہ ہے۔ دونوں ممالک اپنی قومی سلامتی، دفاعی صلاحیتوں اور تکنیکی خودمختاری کو اہمیت دیتے ہیں۔ دفاعی پیداوار، فوجی تربیت، مشترکہ مشقوں اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون نے دوطرفہ روابط کو مزید اہمیت دی ہے۔ ترکیہ نے دفاعی صنعت میں اپنی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر ترقی دی ہے، جبکہ پاکستان بھی دفاعی پیداوار اور متعلقہ تکنیکی شعبوں میں تجربہ رکھتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون سے تحقیق، صنعتی اشتراک اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ مشترکہ منصوبوں کو واضح اہداف، مؤثر منصوبہ بندی اور عملی نتائج کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ دفاعی تعاون کا بنیادی مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے ساتھ خطے میں امن، استحکام اور ذمہ دارانہ تعاون کو فروغ دینا بھی ہونا چاہیے۔
اقتصادی اور تجارتی تعاون پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کا وہ شعبہ ہے جس میں مزید پیش رفت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ پاکستان زرعی پیداوار، ٹیکسٹائل، چاول، کھیلوں کے سامان، چمڑے کی مصنوعات اور دیگر صنعتی شعبوں میں نمایاں صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب ترکیہ مشینری، انجینئرنگ، تعمیرات، صنعتی پیداوار، ٹیکسٹائل اور سیاحت کے شعبوں میں تجربہ اور مہارت رکھتا ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنی معاشی صلاحیتوں کو باہم مربوط کریں تو تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ کاروباری اداروں کے درمیان روابط بڑھائے جائیں، تجارتی رکاوٹوں کو کم کیا جائے اور سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کی جائیں۔ مشترکہ تجارتی نمائشوں، کاروباری وفود کے تبادلوں، سرمایہ کاری کانفرنسوں اور صنعتی منصوبوں کے ذریعے دونوں ممالک کی کمپنیوں کو ایک دوسرے کی منڈیوں تک رسائی میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
پاکستان میں ترکیہ کی کمپنیوں کے لیے توانائی، تعمیرات، ٹرانسپورٹ، شہری ترقی، صنعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات موجود ہیں۔ اسی طرح پاکستانی کاروباری ادارے بھی ترکیہ کی منڈی میں اپنی مصنوعات متعارف کرا سکتے ہیں۔ مشترکہ صنعتی منصوبوں کے ذریعے جدید پیداواری طریقوں، انتظامی مہارت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس تعاون سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ نجی شعبے کی استعداد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
تعلیم اور ٹیکنالوجی کا شعبہ بھی پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ موجودہ دور میں ترقی کا انحصار بڑی حد تک معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق، ڈیجیٹل مہارتوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر ہے۔ دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان اشتراک، طلبہ کے تبادلے، تحقیقی منصوبوں اور تعلیمی وظائف کے ذریعے نوجوان نسل کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ فنی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے پروگرام بھی نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ثقافتی روابط نے بھی دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ترکیہ کی تاریخی عمارتیں، ادبی روایات، فنون اور ڈرامے پاکستانی عوام میں دلچسپی کا باعث بنے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی ثقافت، ادب، موسیقی، تاریخی مقامات اور روایتی مہمان نوازی ترک عوام کے لیے تعارف اور دلچسپی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ثقافتی وفود کے تبادلے، ادبی تقریبات اور مشترکہ پروگراموں سے عوامی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
سیاحت کے شعبے میں بھی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ترکیہ اپنے تاریخی مقامات، ساحلی علاقوں اور ثقافتی ورثے کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ پاکستان بھی قدرتی حسن، بلند پہاڑوں، سرسبز وادیوں، تاریخی آثار اور مذہبی مقامات سے مالا مال ہے۔ اگر دونوں ممالک سیاحتی سہولتوں، مشترکہ تشہیری سرگرمیوں اور سفری روابط کو بہتر بنائیں تو اس شعبے میں نمایاں پیش رفت ممکن ہے۔ سیاحت سے نہ صرف آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ عوامی روابط اور ثقافتی تفہیم کو بھی فروغ ملے گا۔
عالمی اور علاقائی معاملات میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشاورت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں ممالک ایسے خطوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں سلامتی، معاشی ترقی، علاقائی روابط اور تنازعات کے پرامن حل جیسے معاملات مسلسل توجہ کے متقاضی ہیں۔ پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، جبکہ ترکیہ یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک اہم جغرافیائی و سفارتی حیثیت رکھتا ہے۔ باہمی مشاورت اور سفارتی رابطوں سے دونوں ممالک علاقائی مسائل کے پرامن حل کی حمایت کر سکتے ہیں۔
فلسطین کا مسئلہ دونوں ممالک کے لیے اہم انسانی اور سفارتی معاملہ ہے۔ پاکستان اور ترکیہ فلسطینی عوام کے حقوق، انسانی جانوں کے تحفظ اور پائیدار امن کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔ فلسطینی عوام کو انسانی امداد کی فراہمی، بین الاقوامی قانون کے احترام اور مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے عالمی برادری کا مؤثر کردار ضروری ہے۔ اس حوالے سے دونوں ممالک کی سفارتی کوششیں انسانی ہمدردی اور عالمی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
مسئلہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی موضوع ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلے کے پرامن حل کی حمایت کرتا ہے۔ ترکیہ نے بھی مختلف مواقع پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر عالمی حمایت حاصل کرنے کے لیے سفارتی ذرائع، مذاکرات اور مؤثر ابلاغ کو مسلسل بروئے کار لائے۔ دونوں ممالک کے درمیان مشاورت عالمی فورمز پر متعلقہ امور کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی، خوراک کے تحفظ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبوں میں بھی پاکستان اور ترکیہ تعاون بڑھا سکتے ہیں۔ سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور دیگر ماحولیاتی خطرات نے واضح کر دیا ہے کہ ان مسائل کا حل صرف قومی کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ بین الاقوامی تعاون بھی ضروری ہے۔ جدید زرعی طریقوں، پانی کے مؤثر استعمال، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں تجربات کا تبادلہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سفارتی اعلانات کو عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔ اعلیٰ سطح کے دورے، مشترکہ بیانات اور معاہدے تعلقات کی سمت متعین کرتے ہیں، لیکن ان کی حقیقی کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب ان کے نتیجے میں تجارت بڑھتی ہے، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچتا ہے۔ مشترکہ منصوبوں کی نگرانی، کاروباری مسائل کا حل اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان مربوط تعاون اس سلسلے میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی جانب سے جمہوریہ ترکیہ کی 103ویں سالگرہ پر مبارکباد پاکستان کی جانب سے دیرینہ دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان، وزیر خارجہ حاقان فیدان، حکومت اور برادر ترک عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار دونوں ممالک کے درمیان احترام اور خیرخواہی کے جذبات کو نمایاں کرتا ہے۔ قومی دنوں کے مواقع پر اس نوعیت کے پیغامات سفارتی روابط کو تقویت دینے کے ساتھ عوامی سطح پر بھی دوستی کے احساس کو تازہ کرتے ہیں۔
پاکستان اور ترکیہ کی دوستی ایک تاریخی سرمایہ ہے، جسے مستقبل کے تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنانا دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس رشتے کی اصل طاقت صرف ماضی کی مشترکہ تاریخ میں نہیں بلکہ مستقبل کے مشترکہ اہداف میں بھی پوشیدہ ہے۔ اگر دونوں ممالک دفاعی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کو عملی بنیادوں پر فروغ دیتے رہیں تو یہ شراکت داری دونوں قوموں کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
جمہوریہ ترکیہ کی 103ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کی جانب سے پیش کی جانے والی مبارکباد دراصل اسی روشن مستقبل کی امید کا اظہار ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے عوام امن، ترقی، استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد رکھتے ہیں۔ باہمی اعتماد، احترام اور تعاون کے ذریعے دونوں ممالک اپنے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو تاریخی دوستی کو آنے والی نسلوں کے لیے مزید بامعنی، مضبوط اور نتیجہ خیز بنائے گا۔










