پاکستان اور مالدیپ: دوستی، سفارت کاری اور باہمی تعاون کے نئے امکانات
تحریر: سید مجتبیٰ رضوان
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو سے اسلام آباد میں ملاقات ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ روایتی دوستانہ تعلقات کو عملی تعاون، معاشی شراکت داری اور عوامی روابط کے ذریعے نئی جہت دی جائے۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان قریبی رابطے نہ صرف دونوں ملکوں کے قومی مفادات کے لیے اہم ہیں بلکہ جنوبی ایشیا اور بحر ہند کے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کو صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے گرم جوش سلام اور نیک خواہشات پیش کیں۔ انہوں نے صدر مالدیپ اور ان کے وفد کا پاکستان میں خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ سفارتی تعلقات میں اس نوعیت کا خیرمقدم محض رسمی کارروائی نہیں ہوتا بلکہ اس کے ذریعے باہمی احترام، اعتماد اور دوستی کے جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ریاستوں کے درمیان مضبوط تعلقات اسی وقت دیرپا بنیادیں حاصل کرتے ہیں جب سیاسی قیادت ایک دوسرے کے ساتھ رابطوں کو اہمیت دے اور تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔
پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات کی بنیاد باہمی احترام، دوستی اور مشترکہ مفادات پر قائم ہے۔ دونوں ممالک مختلف جغرافیائی اور معاشی خصوصیات کے حامل ہونے کے باوجود متعدد شعبوں میں ایک دوسرے کے لیے اہم مواقع رکھتے ہیں۔ پاکستان جنوبی ایشیا کا ایک اہم ملک ہے جس کے پاس بڑی افرادی قوت، زرعی وسائل، صنعتی صلاحیت، تعلیمی ادارے اور وسیع تجارتی امکانات موجود ہیں، جبکہ مالدیپ بحر ہند میں واقع ایک جزیرہ نما ریاست ہے جس کی معیشت میں سیاحت، خدمات اور سمندری وسائل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان مختلف خصوصیات کو باہمی تعاون میں تبدیل کیا جائے تو دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے مفید اقتصادی شراکت دار بن سکتے ہیں۔
اس ملاقات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور سیاحت جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ یہ تمام شعبے ایسے ہیں جن میں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تعلقات کو عملی اور نتیجہ خیز بنایا جا سکتا ہے۔ سفارتی روابط اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب ان کے نتیجے میں کاروبار، روزگار، تعلیم، ٹیکنالوجی اور عوامی فلاح کے لیے حقیقی مواقع پیدا ہوں۔ اسی لیے دونوں ممالک کی قیادت کے لیے ضروری ہے کہ ملاقاتوں میں ہونے والی بات چیت کو واضح اہداف اور قابل عمل منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تجارتی تعاون میں اضافے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ پاکستان زرعی اجناس، چاول، پھل، سبزیاں، خوراک سے متعلق مختلف مصنوعات، ادویات، ٹیکسٹائل، ملبوسات، تعمیراتی سامان اور دیگر صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب مالدیپ اپنی ضروریات کے لیے مختلف ممالک سے اشیائے خورونوش اور دیگر مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ اس صورت حال میں پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے مالدیپ کی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھانے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاہم تجارتی امکانات سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لیے صرف سیاسی خواہش کافی نہیں ہوگی۔ دونوں ممالک کو تجارتی معلومات کے تبادلے، درآمدی ضروریات کی نشاندہی، معیار اور سرٹیفکیشن کے تقاضوں، نقل و حمل کے اخراجات اور ادائیگیوں کے مؤثر طریقہ کار پر توجہ دینا ہوگی۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو مالدیپ کی مارکیٹ کی ضروریات سمجھنے اور مقامی کاروباری اداروں کے ساتھ طویل مدتی روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح مالدیپ کے درآمد کنندگان کو پاکستانی مصنوعات کے معیار، قیمت اور فراہمی کے نظام سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل میں سرکاری اداروں کے ساتھ نجی شعبے کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
مالدیپ۔پاکستان بزنس فورم میں مالدیپ کے کاروباری وفد کی شرکت اسی تناظر میں اہم ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کاروباری اداروں کے درمیان براہ راست ملاقاتوں سے تجارت اور سرمایہ کاری کے ٹھوس مواقع پیدا ہوں گے۔ بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں دونوں ملکوں کے کاروباری حلقوں کو ایک دوسرے کی ضروریات، صلاحیتوں اور ترجیحات سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے ذریعے ممکنہ شراکت دار تلاش کیے جا سکتے ہیں، تجارتی معاہدوں کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے اور مشترکہ منصوبوں کے لیے ابتدائی مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔
کاروباری فورمز کی کامیابی کا اصل معیار صرف شرکا کی تعداد یا اجلاسوں کا انعقاد نہیں بلکہ ان کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے، سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیاں ہیں۔ اگر دونوں ممالک کاروباری رابطوں کو مسلسل برقرار رکھنے کے لیے مؤثر نظام قائم کریں، متعلقہ اداروں کو ذمہ داریاں سونپیں اور پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیں تو یہ فورم دوطرفہ معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کے تجارتی اداروں اور کاروباری تنظیموں کو بھی چاہیے کہ وہ مالدیپ کی مارکیٹ میں دستیاب مواقع کا جائزہ لے کر اپنی مصنوعات اور خدمات کو بہتر انداز میں متعارف کرائیں۔
سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی اقتصادی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ مالدیپ کی معیشت میں سیاحت اور اس سے منسلک خدمات کو نمایاں مقام حاصل ہے، جبکہ پاکستان میں ہوٹلنگ، تعمیرات، خوراک کی فراہمی، ٹرانسپورٹ، ڈیجیٹل خدمات اور سیاحتی سہولتوں کے شعبوں میں تجربہ رکھنے والے کاروباری ادارے موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے سرمایہ کار مشترکہ منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ سرمایہ کاری کے ضوابط، مالی خطرات، مقامی ضروریات اور کاروباری ماحول کے بارے میں مستند معلومات فراہم کی جائیں۔
پاکستانی کمپنیوں کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مالدیپ میں اپنے تجربے کو مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر استعمال کریں، جبکہ مالدیپ کے سرمایہ کار پاکستان میں مناسب کاروباری مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔ تاہم ہر سرمایہ کاری کے فیصلے کی بنیاد واضح تجارتی امکانات، شفاف قانونی تقاضوں اور طویل مدتی معاشی فوائد پر ہونی چاہیے۔ حکومتوں کا کردار سازگار ماحول فراہم کرنا، غیر ضروری رکاوٹیں کم کرنا اور سرمایہ کاروں کے جائز مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جو دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے ساتھ مستقبل کی معاشی ترقی میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں متعدد سرکاری اور نجی جامعات، طبی ادارے، انجینئرنگ یونیورسٹیاں اور پیشہ ورانہ تربیتی مراکز موجود ہیں۔ مالدیپ کے طلبہ کے لیے پاکستانی تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم اور فنی تربیت کے مواقع تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی وظائف، اساتذہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور ڈیجیٹل تعلیم کے پروگراموں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
عصر حاضر میں کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار صرف قدرتی وسائل پر نہیں بلکہ انسانی صلاحیتوں، علم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی پر بھی ہے۔ اگر پاکستان اور مالدیپ تعلیم کے شعبے میں منظم تعاون کو فروغ دیں تو نوجوان نسل کو بہتر مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ بالخصوص صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ماحولیاتی علوم، سیاحت کے انتظام، سمندری تحقیق اور کاروباری تعلیم جیسے شعبوں میں مشترکہ سرگرمیاں دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔
اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی تعاون کو صرف رسمی معاہدوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ طلبہ اور اساتذہ کے تبادلوں، مشترکہ تربیتی پروگراموں اور تحقیق کے عملی منصوبوں پر توجہ دی جائے۔ تعلیمی اداروں کے درمیان براہ راست روابط سے ایک ایسا ماحول تشکیل دیا جا سکتا ہے جس میں دونوں ممالک کے نوجوان ایک دوسرے کے معاشرتی حالات، ثقافت اور ترقیاتی ترجیحات کو سمجھ سکیں۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ پاکستان اور مالدیپ دونوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے، اگرچہ اس کے اثرات دونوں ممالک پر مختلف صورتوں میں مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان کو سیلاب، شدید گرمی، پانی کی قلت، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور زرعی پیداوار سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔ دوسری جانب مالدیپ جیسے جزیرہ نما ملک کے لیے سمندر کی سطح میں اضافے، ساحلی کٹاؤ اور سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے مسائل غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود مسئلہ نہیں۔ اس کے اثرات خوراک کی پیداوار، انسانی آبادیوں، معیشت، قدرتی وسائل اور مستقبل کی نسلوں تک پھیلتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان ماحولیاتی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دونوں ممالک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، آفات سے پہلے تیاری، ابتدائی انتباہی نظام، قدرتی وسائل کے تحفظ اور بین الاقوامی ماحولیاتی فورمز پر مشترکہ موقف کے امکانات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
پاکستان کو سیلاب اور دیگر قدرتی آفات سے نمٹنے کے تجربات حاصل ہیں، جبکہ مالدیپ کو سمندری ماحول اور ساحلی تحفظ سے متعلق مخصوص مسائل درپیش ہیں۔ تجربات کا تبادلہ دونوں ممالک کو اپنی پالیسیوں اور تیاریوں کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے ساتھ قابل تجدید توانائی، پانی کے مؤثر استعمال اور ماحولیاتی آگاہی کے منصوبوں میں بھی تعاون کی گنجائش موجود ہے۔
سیاحت کا شعبہ بھی پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تعاون کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ مالدیپ اپنے خوب صورت ساحلی مقامات، سمندری ماحول اور سیاحتی سہولتوں کے باعث دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ پاکستان بھی قدرتی حسن، بلند پہاڑوں، وادیوں، تاریخی مقامات، ثقافتی ورثے اور مذہبی سیاحت کے حوالے سے وسیع امکانات رکھتا ہے۔ شمالی علاقہ جات، تاریخی شہروں اور مختلف ثقافتی مقامات کو بین الاقوامی سیاحوں کے لیے بہتر انداز میں متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔
دونوں ممالک سیاحت کے شعبے میں تجربات کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔ مالدیپ کے سیاحتی انتظام اور خدمات کے تجربات سے پاکستان کے متعلقہ ادارے استفادہ کر سکتے ہیں، جبکہ پاکستان اپنے قدرتی، تاریخی اور ثقافتی سیاحتی مقامات کو مالدیپ سمیت دیگر ممالک کے سیاحوں کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ سیاحتی اداروں، ٹریول ایجنسیوں اور ہوٹلنگ کے شعبے سے وابستہ کاروباری افراد کے درمیان روابط اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تاہم سیاحت کے فروغ کے لیے محفوظ سفری سہولتیں، بہتر بنیادی ڈھانچہ، معیاری خدمات، مؤثر تشہیر اور آسان سفری معلومات ضروری ہیں۔ اگر دونوں ممالک سیاحتی پیکجز، کاروباری دوروں اور عوامی رابطوں کے لیے مشترکہ اقدامات کریں تو اس شعبے میں تعاون کو وسعت دی جا سکتی ہے۔ فضائی رابطوں اور سفری سہولتوں کے امکانات کا جائزہ بھی اس سلسلے میں مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان میں اپنے اور اپنے وفد کے لیے کیے گئے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور باہمی فائدہ مند تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ یہ بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے مثبت سوچ رکھتی ہے۔ اب اس مثبت فضا کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا متعلقہ اداروں، سفارتی نمائندوں اور کاروباری حلقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں علاقائی روابط، معاشی تعاون اور دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ موجودہ عالمی ماحول میں سفارت کاری کا کردار صرف سیاسی مذاکرات یا رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم، ماحولیات اور عوامی روابط بھی اس کا بنیادی حصہ بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں مالدیپ جیسے دوست ملک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا پاکستان کے لیے ایک مفید موقع فراہم کرتا ہے۔
بحر ہند کا خطہ عالمی تجارت اور سمندری نقل و حمل کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس خطے میں امن، محفوظ بحری راستے اور اقتصادی تعاون متعدد ممالک کے مشترکہ مفادات سے وابستہ ہیں۔ پاکستان اور مالدیپ دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سمندری ماحول کے تحفظ، قانونی تجارت اور علاقائی استحکام کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کریں۔ دوطرفہ روابط کے ذریعے متعلقہ شعبوں میں معلومات اور تجربات کا تبادلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
اس کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر روابط کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ثقافتی تقریبات، تعلیمی وفود، کھیلوں کے مقابلوں، میڈیا کے تبادلوں اور نوجوانوں کے پروگراموں کے ذریعے ایک دوسرے کے بارے میں بہتر آگاہی پیدا کی جا سکتی ہے۔ حکومتوں کے درمیان دوستانہ تعلقات اس وقت زیادہ مضبوط ہوتے ہیں جب عوام بھی ایک دوسرے کے معاشرے، روایات اور اقدار سے واقف ہوں۔ اس مقصد کے لیے ثقافتی سفارت کاری کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا ضروری ہے۔
پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات میں مزید پیش رفت کے لیے چند عملی اقدامات اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کو تجارتی حجم بڑھانے کے لیے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرنی چاہیے، کاروباری وفود کے دوروں کو باقاعدگی سے جاری رکھنا چاہیے اور سرمایہ کاری کے ممکنہ منصوبوں پر متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے مضبوط کرنے چاہییں۔ تعلیم اور ماحولیاتی تعاون کے لیے مشترکہ پروگرام تشکیل دیے جا سکتے ہیں، جبکہ سیاحت کے شعبے میں مارکیٹ کی ضروریات اور دستیاب سہولتوں کے مطابق قابل عمل منصوبے تیار کیے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح دونوں ملکوں کے سفارتی مشنز کو چاہیے کہ وہ کاروباری اداروں، جامعات اور متعلقہ سرکاری محکموں کے درمیان رابطوں میں سہولت فراہم کریں۔ مشترکہ کمیٹیوں یا مشاورتی نظام کے ذریعے طے شدہ اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس عمل سے یہ معلوم کرنا آسان ہوگا کہ کون سے منصوبے عملی شکل اختیار کر رہے ہیں، کہاں مشکلات موجود ہیں اور انہیں دور کرنے کے لیے کیا اقدامات درکار ہیں۔
یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ پاکستان اور مالدیپ کی معیشتوں کا حجم، ضروریات اور جغرافیائی حالات مختلف ہیں۔ اس لیے دوطرفہ تعاون کو دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیتوں اور ترجیحات کے مطابق آگے بڑھانا ہوگا۔ ایسے منصوبوں کو ترجیح دینی چاہیے جن سے دونوں فریقوں کو واضح فائدہ حاصل ہو اور جن پر عمل درآمد کے لیے مناسب وسائل اور ادارہ جاتی صلاحیت موجود ہو۔ حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی اور مسلسل رابطے ہی دیرپا کامیابی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور صدر مالدیپ ڈاکٹر محمد معیزو کی ملاقات پاکستان اور مالدیپ کے دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور سیاحت جیسے اہم شعبوں پر توجہ اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو روایتی سفارت کاری سے آگے بڑھا کر معاشی اور عوامی تعاون کی مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔
مالدیپ کے کاروباری وفد کی شرکت اور بزنس ٹو بزنس ملاقاتوں سے وابستہ توقعات اس بات کا اشارہ ہیں کہ دوطرفہ تعلقات میں نجی شعبے کو بھی اہم مقام حاصل ہے۔ اگر ان رابطوں کے نتیجے میں تجارتی معاہدے، سرمایہ کاری کے منصوبے، تعلیمی تعاون اور ماحولیاتی اقدامات سامنے آتے ہیں تو یہ پیش رفت دونوں ممالک کے عوام کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دوستی کا اصل تقاضا یہی ہے کہ باہمی اعتماد کو عملی تعاون میں تبدیل کیا جائے۔ سفارتی ملاقاتیں راستے کھولتی ہیں، لیکن ان راستوں پر آگے بڑھنے کے لیے مسلسل محنت، مؤثر منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی درکار ہوتی ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنی مشترکہ ترجیحات پر توجہ برقرار رکھیں تو یہ تعلقات مستقبل میں تجارت، تعلیم، سرمایہ کاری، سیاحت اور علاقائی تعاون کے نئے امکانات پیدا کر سکتے ہیں۔
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دوستی کا یہ سفر باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور ترقی کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ سفارتی پیش رفت کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات نہ صرف حکومتوں کی سطح پر مضبوط ہوں بلکہ عوامی خوشحالی، معاشی ترقی اور خطے میں امن کے فروغ کا ذریعہ بھی بنیں۔ یہی اس ملاقات کا بنیادی پیغام اور مستقبل کے تعاون کی اصل سمت ہے۔
سید مجتبیٰ رضوان16
پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کیلئے کچھ نہیں کیا: امیر مقام
پنجاب میں کینسر کے 5 ہزار سے زائد مریض ادویات سے محروم، مفت علاج کا پروگرام متاثر
وزیراعظم شہباز شریف کا پاک چین دوستی ہسپتال مستقل برقرار رکھنے کا اعلان، مریضوں کا مفت علاج ہوگا
عالمی و مقامی سطح پر سونا ہزاروں روپے سستا ہوگیا
پاکستان اور سنگاپور میں اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق، قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے اہم معاہدہ
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ: شادی پر بیوی کو دیا گیا سونا اسی کی ملکیت تصور ہوگا
وزیراعظم شہباز شریف کا پاک چین دوستی ہسپتال مستقل برقرار رکھنے کا اعلان، مریضوں کا مفت علاج ہوگا
**مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی وزیراعظم ہاؤس آمد، شہباز شریف کا پرتپاک استقبال، گارڈ آف آنر پیش**
پنجاب میں 40 اسٹروک سینٹرز فعال، 15 مزید قائم ہوں گے، مریم نواز
پاکستان اور سعودی عرب میں تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق
انگلینڈ نے سری لنکا کو 55 رنز سے شکست دے دی، بین ڈکٹ کی شاندار سنچری
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ایرانی رہنما محسن رضائی سے ملاقات کی پیشکش، مذاکرات پر زور