بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

Advertisement

پاکستان اور جرمنی: دوستی کے 75 سال، اقتصادی تعاون کے نئے امکانات

پاکستان اور جرمنی: دوستی کے 75 سال، اقتصادی تعاون کے نئے امکانات


تحریر: سید مجتبیٰ رضوان


پاکستان اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا 22 سے 24 اکتوبر 2026 تک وفاقی جمہوریہ جرمنی کا دورہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دورہ محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ اقتصادی تعاون، تجارت کے فروغ، سرمایہ کاری کے نئے مواقع اور دوطرفہ شراکت داری کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ وزارتِ خارجہ پاکستان کے مطابق صدرِ مملکت اپنے دورے کے دوران جرمنی کے صدر، اعلیٰ قیادت اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں پاکستان اور جرمنی کے دوطرفہ تعلقات بالخصوص اقتصادی اور تجارتی تعاون پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی 75ویں سالگرہ اس دورے کو مزید اہمیت عطا کرتی ہے اور اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان اور جرمنی اپنے دیرینہ تعلقات کو ایک مضبوط، متوازن اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔


پاکستان اور جرمنی کے تعلقات کی تاریخ باہمی احترام، سفارتی روابط اور مشترکہ مفادات سے عبارت ہے۔ 1951 میں قائم ہونے والے سفارتی تعلقات نے وقت کے ساتھ مختلف شعبوں میں ترقی کی اور دونوں ممالک نے بین الاقوامی امور، اقتصادی سرگرمیوں، تعلیم، فنی تربیت اور ترقیاتی تعاون میں ایک دوسرے کے ساتھ روابط کو فروغ دیا۔ گزشتہ ساڑھے سات دہائیوں کے دوران دنیا نے کئی بڑی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ عالمی سیاست کے توازن تبدیل ہوئے، معیشتوں نے نئے چیلنجز کا سامنا کیا، ٹیکنالوجی نے کاروبار کے طریقے بدل دیے اور بین الاقوامی تجارت کی ترجیحات میں نمایاں تبدیلی آئی۔ ان تمام تبدیلیوں کے باوجود پاکستان اور جرمنی کے سفارتی تعلقات کا تسلسل اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ دیرپا دوستی کی بنیاد مستقل رابطوں، مشترکہ مفادات اور باہمی اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔


آج کے دور میں سفارت کاری کا دائرہ صرف سیاسی ملاقاتوں اور سرکاری بیانات تک محدود نہیں رہا۔ جدید سفارت کاری میں اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی، توانائی، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی وسائل کی ترقی بنیادی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ اسی تناظر میں صدر آصف علی زرداری کا دورہ جرمنی پاکستان کے لیے اپنے اقتصادی امکانات کو اجاگر کرنے اور جرمن سرمایہ کاروں کے ساتھ براہِ راست روابط مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر اس دورے کے دوران طے پانے والی بات چیت کو عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے تو دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں۔


جرمنی یورپ کی بڑی صنعتی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی صنعتی مہارت، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، انجینئرنگ، مشینری سازی، خودکار پیداواری نظام اور کاروباری نظم و نسق دنیا بھر میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان ایک بڑی آبادی، نوجوان افرادی قوت، وسیع صارف منڈی، زرعی وسائل اور صنعتی ترقی کے امکانات کا حامل ملک ہے۔ ان خصوصیات کو سامنے رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے ایسے امکانات موجود ہیں جن سے نہ صرف تجارت میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کی پیداواری صلاحیت، صنعتی معیار اور برآمدی مسابقت میں بھی بہتری لائی جا سکتی ہے۔


پاکستان کے لیے جرمنی کے ساتھ تعلقات کی ایک اہم جہت برآمدات میں اضافہ ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل، ملبوسات، کھیلوں کے سامان، چمڑے کی مصنوعات، طبی آلات، زرعی مصنوعات اور دیگر شعبوں میں پیداواری صلاحیت موجود ہے۔ جرمن منڈی میں اپنی موجودگی کو وسعت دینے کے لیے پاکستانی کاروباری اداروں کو معیار، جدید ڈیزائن، ماحول دوست پیداوار، بروقت ترسیل اور بین الاقوامی تجارتی ضوابط پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ جرمن کاروباری اداروں کے ساتھ براہِ راست رابطے، تجارتی نمائشوں میں شرکت اور مشترکہ کاروباری منصوبوں کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کے لیے مزید مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔


اس سلسلے میں ضروری ہے کہ پاکستان اپنی برآمدی حکمتِ عملی کو صرف روایتی مصنوعات تک محدود نہ رکھے بلکہ اعلیٰ قدر کی حامل اشیا اور خدمات پر بھی توجہ دے۔ جدید ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر، ڈیجیٹل خدمات، انجینئرنگ اور تحقیق سے متعلق شعبوں میں پاکستانی صلاحیتوں کو جرمن منڈی سے منسلک کرنے کے امکانات موجود ہیں۔ اس مقصد کے لیے کاروباری اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، مصنوعات کی تصدیق اور معیار کے نظام کو بہتر بنانا اور تجارتی معلومات تک رسائی آسان بنانا ضروری ہے۔ صدرِ مملکت کے دورے کے دوران کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں اس نوعیت کے تعاون کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہیں۔


سرمایہ کاری کا فروغ بھی اس دورے کا ایک اہم ممکنہ پہلو ہے۔ پاکستان کو صنعتی ترقی، توانائی، بنیادی ڈھانچے، جدید زراعت، صحت، ٹرانسپورٹ، قابلِ تجدید توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ جرمن کمپنیوں کے پاس کئی شعبوں میں جدید مہارت اور بین الاقوامی تجربہ موجود ہے۔ اگر انہیں پاکستان میں کاروبار کے لیے واضح پالیسی، شفاف ضابطے، مستحکم ٹیکس نظام، آسان کاروباری طریقہ کار اور سرمایہ کاری کے تحفظ کی قابلِ اعتماد ضمانتیں فراہم کی جائیں تو پاکستان جرمن سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش شراکت دار بن سکتا ہے۔


تاہم سرمایہ کاری کے امکانات کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے صرف دعوتیں کافی نہیں ہوتیں۔ سرمایہ کار کسی بھی ملک میں طویل مدتی منصوبے شروع کرنے سے پہلے پالیسیوں کے تسلسل، قانونی تحفظ، منافع کی منتقلی، توانائی کی دستیابی، بنیادی ڈھانچے اور انتظامی طریقہ کار کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ جرمن کاروباری حلقوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سمجھے اور ان کے حل کے لیے قابلِ عمل اقدامات کرے۔ اگر اس دورے کے نتیجے میں مشترکہ اقتصادی فورم، کاروباری وفود کے تبادلے اور سرمایہ کاری کے مخصوص منصوبوں پر پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے اثرات مستقبل میں زیادہ واضح ہو سکتے ہیں۔


پاکستان اور جرمنی کے درمیان صنعتی تعاون کی ایک اہم جہت ٹیکنالوجی کی منتقلی ہے۔ پاکستان میں بہت سے صنعتی شعبے جدید مشینری، توانائی کی بچت، پیداواری معیار اور خودکار نظاموں میں بہتری کے متقاضی ہیں۔ جرمن اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے، تکنیکی شراکت داری اور تربیتی پروگرام پاکستانی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس طرح پاکستان صرف مصنوعات تیار کرنے والا ملک نہیں بلکہ بہتر معیار، زیادہ پیداواری صلاحیت اور جدید صنعتی مہارت رکھنے والی معیشت بننے کی جانب پیش رفت کر سکتا ہے۔


یہاں ایک بنیادی نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے مقامی انسانی وسائل کو تیار کرنا ناگزیر ہے۔ جرمنی فنی تعلیم، اپرنٹس شپ اور صنعت سے منسلک تربیتی نظام کے حوالے سے وسیع تجربہ رکھتا ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں کو جدید صنعتی مہارتوں، مکینیکل انجینئرنگ، الیکٹریکل ٹیکنالوجی، صنعتی خودکاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید پیداواری طریقوں کی تربیت فراہم کرنے کے لیے تعاون کے امکانات تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے پاکستانی نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور مقامی صنعت کو بھی تربیت یافتہ افرادی قوت دستیاب ہوگی۔


تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں بھی پاکستان اور جرمنی کے تعلقات کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کی جامعات، تحقیقی ادارے اور فنی تربیت کے مراکز مشترکہ منصوبوں کے ذریعے علم و تجربے کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔ انجینئرنگ، طبی تحقیق، زراعت، ماحولیات، توانائی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ایسے شعبے ہیں جن میں مشترکہ تحقیقی سرگرمیاں دونوں ممالک کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ پاکستانی طلبہ اور محققین کے لیے تعلیمی روابط میں اضافہ، مشترکہ تحقیقی پروگراموں اور علمی تبادلوں کے ذریعے پاکستان میں علم پر مبنی معیشت کی تشکیل کو تقویت دی جا سکتی ہے۔


پاکستان اور جرمنی کے درمیان قابلِ تجدید توانائی اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کی بھی نمایاں گنجائش ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ سیلاب، شدید گرمی، پانی کی قلت اور زرعی پیداوار پر موسمیاتی اثرات ملک کی معیشت اور عوامی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ جرمن تجربے اور تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شمسی توانائی، ہوا سے بجلی کی پیداوار، توانائی کی بچت، صنعتی آلودگی میں کمی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے منصوبوں پر کام کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرنا ممکن ہوگا۔


زراعت پاکستان کی معیشت کا بنیادی شعبہ ہے اور اس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیداوار میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ جدید زرعی مشینری، پانی کے مؤثر استعمال، بیجوں کے معیار، خوراک کو محفوظ رکھنے، زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ اور کولڈ چین کے نظام میں بہتری کے لیے جرمن اداروں کے ساتھ تعاون مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان اگر اپنی زرعی پیداوار کو خام شکل میں برآمد کرنے کے بجائے اس کی پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دے تو برآمدی آمدنی میں اضافہ اور دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔


اسی طرح صحت اور طبی آلات کی صنعت میں بھی تعاون کے امکانات تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں صحت کی سہولتوں کو بہتر بنانے، طبی آلات کی تیاری، ہسپتالوں کے انتظامی نظام، طبی تحقیق اور تکنیکی تربیت کے لیے بین الاقوامی تجربے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی بعض صنعتیں پہلے ہی طبی آلات کی تیاری اور برآمد میں اپنی صلاحیت کا اظہار کر رہی ہیں۔ جرمن اداروں کے ساتھ معیار، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون ان صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔


پاکستان اور جرمنی کے اقتصادی تعلقات میں انسانی روابط کی اہمیت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ جرمنی میں مقیم پاکستانی برادری دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم رابطے کا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ برادری کاروبار، تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت، ثقافت اور سماجی روابط کے فروغ میں حصہ ڈال سکتی ہے۔ پاکستانی نژاد ماہرین، طلبہ اور کاروباری شخصیات اپنے تجربات کو پاکستان کے ساتھ منسلک کرکے سرمایہ کاری، علمی تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کے لیے نئے راستے کھول سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے ادارے قانونی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق ایسے روابط کو سہولت فراہم کریں۔


سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ دونوں ممالک کے لیے ماضی کی کامیابیوں کا جائزہ لینے اور مستقبل کے اہداف طے کرنے کا مناسب موقع ہے۔ اس تاریخی موقع کو صرف تقریبات اور رسمی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے ایک واضح عملی ایجنڈے میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ تجارت میں اضافے کے قابلِ پیمائش اہداف، سرمایہ کاری کے ممکنہ شعبوں کی نشاندہی، کاروباری وفود کے باقاعدہ تبادلے، تعلیمی تعاون اور تکنیکی تربیت کے منصوبوں پر پیش رفت اس شراکت داری کو نئی سمت دے سکتی ہے۔


یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے بعض چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی منڈی میں مسابقت، تجارتی معیار کی سخت شرائط، پیداواری لاگت، مالیاتی مسائل اور پالیسیوں میں غیر یقینی صورتِ حال کاروباری فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان چیلنجز کو محض رکاوٹ سمجھنے کے بجائے اصلاحات کا محرک بنائے۔ صنعتی معیار کو بہتر بنانا، برآمدی مصنوعات میں تنوع پیدا کرنا، کاروباری عمل کو آسان بنانا اور سرکاری و نجی شعبے کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کرنا اس سلسلے میں اہم اقدامات ہوں گے۔


جرمنی کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے میں یورپی منڈی تک رسائی اور عالمی سپلائی چین میں پاکستان کی شمولیت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ جرمن کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ پیداواری منصوبے پاکستان کو عالمی تجارتی نیٹ ورک میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔ تاہم اس مقصد کے لیے پاکستانی اداروں کو بین الاقوامی معیار، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی ذمہ داری اور پیداواری شفافیت کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا۔ طویل مدتی اقتصادی شراکت داری اسی وقت مستحکم ہوتی ہے جب دونوں فریق ایک دوسرے کے لیے قابلِ اعتماد اور ذمہ دار شراکت دار ثابت ہوں۔


صدر آصف علی زرداری کا یہ دورہ پاکستان کی اقتصادی سفارت کاری کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ اس بات کا اندازہ محض ملاقاتوں کی تعداد یا مشترکہ بیانات سے نہیں لگایا جائے گا بلکہ اصل کامیابی اس وقت سامنے آئے گی جب بات چیت کے نتیجے میں عملی تعاون، سرمایہ کاری، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں قابلِ ذکر پیش رفت ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ متعلقہ وزارتیں، تجارتی ادارے، سرمایہ کاری کے ذمہ دار محکمے اور نجی شعبہ دورے کے بعد بھی رابطوں کو جاری رکھیں اور طے شدہ معاملات پر عمل درآمد کی نگرانی کریں۔


پاکستان کو اپنی اقتصادی ترجیحات واضح کرتے ہوئے جرمن قیادت اور کاروباری اداروں کے سامنے ایسے منصوبے پیش کرنے چاہییں جن کے نتائج قابلِ پیمائش ہوں۔ مثال کے طور پر صنعتی تربیت کے مشترکہ مراکز، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے، زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ، برآمدی صنعت کی جدید کاری اور ڈیجیٹل خدمات کے شعبوں میں تعاون کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ اس حکمتِ عملی سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوگا اور اقتصادی تعلقات محض امکانات کے ذکر تک محدود نہیں رہیں گے۔


بین الاقوامی تعلقات میں مضبوط شراکت داری کے لیے تسلسل اور باہمی اعتماد بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اور جرمنی کے درمیان 75 سالہ سفارتی سفر اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک نے مختلف ادوار میں اپنے روابط کو برقرار رکھا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تاریخی بنیاد کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مستحکم کیا جائے۔ پاکستان کو جرمنی کی صنعتی مہارت اور ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہیے، جبکہ جرمن کاروباری اداروں کے لیے پاکستان کی منڈی، نوجوان افرادی قوت اور علاقائی اقتصادی امکانات کو سنجیدگی سے سمجھنا مفید ہوگا۔


پاکستان اور جرمنی کے تعلقات کا مستقبل صرف حکومتوں کے درمیان رابطوں سے متعین نہیں ہوگا بلکہ کاروباری اداروں، تعلیمی مراکز، تحقیقی تنظیموں اور عوام کے درمیان تعاون بھی اس میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اگر دونوں ممالک مشترکہ مفادات کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے ثمرات تجارت، روزگار، صنعتی ترقی، تعلیم اور تکنیکی مہارت کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔


آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا 22 سے 24 اکتوبر 2026 تک جرمنی کا دورہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان 75 سالہ سفارتی دوستی کو نئی جہت دینے کا اہم موقع ہے۔ اس دورے کی اصل اہمیت اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان دیرپا شراکت داری کو فروغ دینے میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی صنعتی صلاحیت، انسانی وسائل اور تجارتی امکانات کو مؤثر انداز میں پیش کرے، جبکہ جرمنی کے ساتھ تعاون کو عملی منصوبوں، واضح اہداف اور مسلسل رابطوں کے ذریعے آگے بڑھائے۔


75 سالہ سفارتی سفر ایک قابلِ قدر تاریخی سرمایہ ہے، لیکن اس کی اصل کامیابی آنے والے برسوں میں حاصل ہونے والی پیش رفت سے ظاہر ہوگی۔ اگر موجودہ دورے کے ذریعے اقتصادی تعاون کے نئے راستے کھلتے ہیں، تجارتی روابط میں اضافہ ہوتا ہے اور سرمایہ کاری کے قابلِ عمل منصوبے سامنے آتے ہیں تو یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک مثبت اور دیرپا اضافہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور جرمنی کی دوستی کا اگلا مرحلہ اسی وقت کامیاب ہوگا جب سفارتی اعتماد کو معاشی ترقی، مشترکہ خوش حالی اور عوامی سطح پر بہتر مواقع میں تبدیل کیا جائے گا۔ یہی 75 سالہ تعلقات کا حقیقی ثمر اور مستقبل کی شراکت داری کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔

سید مجتبیٰ رضوان 62
Advertisement
Advertisement

فضل الرحمان کی عزت نہیں رہی، اب آپ کو ریاست میں نوکری نہیں ملے گی، محسن نقوی

عبدالعلیم خان سے ایرانی سفیر کی ملاقات، پاک ایران تعلقات پر اہم گفتگو

2026 میں بھارتی فلمی صنعت کے معروف فنکاروں کا انتقال، آشا بھوسلے سمیت کئی شخصیات دنیا

: لیسکو کی اوسط بجلی بلنگ پر اپیل خارج، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار

بلاول بھٹو کا اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات میں حصہ لینے کا مشورہ

لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی توسیع کی منظوری، وزیراعظم کی ہدایت

**مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی وزیراعظم ہاؤس آمد، شہباز شریف کا پرتپاک استقبال، گارڈ آف آنر پیش**

پنجاب میں 40 اسٹروک سینٹرز فعال، 15 مزید قائم ہوں گے، مریم نواز

پاکستان اور سعودی عرب میں تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی دور کے 76 قوانین کا جائزہ لینے کا فیصلہ

بلاول بھٹو کا اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات میں حصہ لینے کا مشورہ

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

Advertisement
×