اٹک: اٹک خورد پل پر رکاوٹیں توڑنے، سرکاری سامان دریا میں پھینکنے، مبینہ طور پر سامان ساتھ لے جانے، پولیس سے مزاحمت اور پتھراؤ کے الزام میں 250 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق تھانہ اٹک خورد کے اے ایس آئی محمد فیضان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق پولیس اہلکار پل پر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے کہ پشاور کی جانب سے تقریباً 250 افراد پر مشتمل ایک مجمع وہاں پہنچ گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مجمع میں شامل بیشتر افراد کا تعلق قریبی آبادیوں خیرآباد اور جہانگیرہ سے ہونے کا شبہ ہے، جبکہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سامنے آنے کی صورت میں ان افراد کو شناخت کیا جاسکتا ہے۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مظاہرین نے نعرے بازی کے دوران ڈنڈوں اور آہنی راڈز کا استعمال کیا، پولیس اہلکاروں کو دھمکیاں دیں اور مبینہ طور پر پتھراؤ کرکے خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق مشتعل افراد نے سرکاری امور میں مداخلت کرتے ہوئے اہلکاروں کو ڈیوٹی پوائنٹ سے ہٹانے کی کوشش بھی کی۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پل پر موجود لاجسٹک رکاوٹوں اور دیگر سامان کو مبینہ طور پر نقصان پہنچایا گیا اور کچھ سامان دریا میں پھینک دیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق بعض افراد سرکاری سامان اپنے ساتھ بھی لے گئے۔ پولیس نے مجمع کو منتشر ہونے اور صورتحال معمول پر لانے کے لیے متعدد بار سمجھانے کی کوشش کی، تاہم مبینہ طور پر افراد نے ہدایات پر عمل نہیں کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود مجمع کی جانب سے اجتماع اور ہنگامہ آرائی کی گئی، جس پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
واقعے کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی گئی ہے، جسے تفتیش کے دوران استعمال کرتے ہوئے مقدمے میں نامزد کیے جانے والے افراد کی شناخت کی جائے گی۔
تھانہ اٹک خورد پولیس نے 250 نامعلوم افراد کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 379، 427، 186، 353، 506، 188، 148 اور 149 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق مزید تفتیش سب انسپکٹر شیر فاضل کے سپرد کردی گئی ہے۔








