بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

پنجاب میں کینسر کے 5 ہزار سے زائد مریض ادویات سے محروم، مفت علاج کا پروگرام متاثر

SerialKiller

مریض دو ماہ سے مشکلات کا شکار، مہنگی دوائیں بازار سے خریدنے پر مجبور

لاہور: پنجاب میں کینسر کے ہزاروں مریضوں کو سرکاری پروگرام کے تحت مفت ادویات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ خون کے کینسر کی دوا نائیلٹونب سمیت دیگر ادویات کی قلت کے باعث پانچ ہزار سے زائد مریض گزشتہ دو ماہ سے پریشانی کا شکار ہیں۔

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کے سی ایم ایل پروگرام کے تحت کینسر کے مریضوں کا علاج متاثر ہو رہا ہے اور انہیں ادویات کی باقاعدہ فراہمی ممکن نہیں ہو پا رہی۔ ادویات کی قلت کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکیں، جس کے باعث مریضوں کو علاج جاری رکھنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خون کے کینسر میں مبتلا مریضوں کو سرکاری مراکز سے مفت ادویات دستیاب نہ ہونے پر بازار سے مہنگی دوائیں خریدنا پڑ رہی ہیں۔ مریضوں کے مطابق ہزاروں روپے مالیت کی ادویات کا خرچ برداشت کرنا ان کے لیے شدید مالی بوجھ بن چکا ہے۔

ماضی میں پنجاب کے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں قائم مراکز کے ذریعے کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جاتی تھیں۔ ان مراکز میں لاہور کے میو اور جناح ہسپتال، فیصل آباد کا الائیڈ ہسپتال، ملتان کا نشتر ہسپتال اور راولپنڈی کا بے نظیر بھٹو ہسپتال شامل ہیں۔

پنجاب حکومت کی جانب سے کینسر کے مریضوں کو مفت علاج اور ادویات فراہم کرنے کا پروگرام 2014 میں اُس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے دور میں شروع کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کرنا اور مہنگی ادویات کے اخراجات سے ریلیف دینا تھا۔

تاہم ادویات کی موجودہ قلت کے باعث پروگرام سے مستفید ہونے والے مریضوں کو مشکلات درپیش ہیں۔ ذرائع کے مطابق پانچ ہزار سے زائد مریض گزشتہ دو ماہ سے ادویات کی فراہمی میں تعطل کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ قلت کے اسباب اور ادویات کی بحالی کے حوالے سے صورتحال تاحال واضح نہیں ہو سکی

2026-10-30 91
Advertisement
Advertisement
Advertisement
×