بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

شہباز حکومت کی الٹی گنتی گننے والے خود اپنی گھڑیاں ری سیٹ کرنے لگے

SerialKiller

فوٹو: فائل

اسلام آباد: 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں قائم ہونے والی اتحادی حکومت کے قیام کے بعد سے ہی وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے اپنے آخری مہینوں میں داخل ہو نے کا سیاسی بیانیہ بار بار سامنے آتا رہا ہے۔

باوجود اس کے کہ وہ کبھی حقیقت نہ بن سکا گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران ٹی وی ٹاک شوز، یوٹیوب چینلز اور سیاسی مبصرین مسلسل اتحادی حکومت کے قریب الوقوع خاتمے کی پیش گوئیاں کرتے رہے ہیں۔ 

پیش گوئیوں کی مدت کبھی 90 دن، کبھی چھ ماہ اور پھر دوبارہ کسی نئی مدت میں بدلتی رہی، لیکن نتیجہ ہمیشہ ایک ہی بتایا گیا: حکومت جانے والی ہے۔ جب بھی ایک مقررہ مدت خاموشی سے گزر جاتی، ایک نئی ڈیڈ لائن سامنے آ جاتی، جسے آئی ایم ایف کے جائزے، بجٹ، معاشی چیلنج، اتحادی جماعتوں کے مسائل، اپوزیشن کی تحریک یا ملک کے سیاسی طاقت کے ڈھانچے سے متعلق قیاس آرائیوں سے جوڑ دیا جاتا۔ 

تازہ ترین کاؤنٹ ڈاؤن ایک ٹی وی اینکر سے یوٹیوبر بننے والے شخص کی جانب سے سامنے آیا، جس نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کو نئے صوبے بنانے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی ہے۔

تاہم آئینی ماہرین نشاندہی کرتے ہیں کہ نئے صوبوں کا قیام پاکستان کے مشکل ترین آئینی اقدامات میں شمار ہوتا ہے۔ آئین کے مطابق صوبائی حدود میں کسی بھی تبدیلی کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم کی منظوری اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے رضامندی ضروری ہے۔ 

موجودہ سیاسی عددی صورتحال اور بین الصوبائی اتفاق رائے کی عدم موجودگی میں ایسا اقدام سیاسی طور پر تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے، اس لیے مبینہ چھ ماہ کی ڈیڈ لائن کو آئینی حقائق سے ہم آہنگ کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ 

یہ تازہ دعویٰ بھی ایک مانوس طرز عمل کی پیروی کرتا ہے۔ 2024 کے انتخابات کے فوراً بعد پیش گوئیوں کا مرکز یہ دلیل تھی کہ اتحادی حکومت کے پاس مہنگائی، آئی ایم ایف کی شرائط اور معاشی مشکلات کے طویل دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے کافی سیاسی جواز موجود نہیں۔ لیکن جیسے جیسے حکومت ایک کے بعد ایک رکاوٹ عبور کرتی گئی، پرانی ڈیڈ لائنز خاموشی سے ختم ہوتی گئیں اور ان کی جگہ نئی تاریخیں آتی رہیں۔ 

جب آئی ایم ایف کے جائزے کامیابی سے مکمل ہوئے تو توجہ اگلے جائزے پر منتقل ہو گئی۔ جب بجٹ منظور ہو گیا تو اگلا سیاسی بحران فیصلہ کن موڑ قرار دیا گیا۔ جب اپوزیشن کے احتجاج سیاسی تبدیلی لانے میں ناکام رہے تو قیاس آرائیاں محض کسی نئی تاریخ پر منتقل ہو گئیں۔ 

یوں یہ چھ ماہ کی مہلت حقیقی کاؤنٹ ڈاؤن کے بجائے ایک ایسے سیاسی کیلنڈر میں تبدیل ہوتی گئی جو خود کو مسلسل ری سیٹ کرتا رہتا ہے۔ ان سیاست دانوں میں جو بار بار ایسی قیاس آرائیوں کو ہوا دیتے رہے، ایک سینیٹر بھی شامل ہیں جو حکومتی بینچوں پر بیٹھتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ 

2026-08-05 19
Advertisement
Advertisement
Advertisement
×