لاہور: غیرملکی لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، پولیس نے گرفتار ملزمان کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان نے بتایا کہ ان کی غیرملکی لڑکی سے پہلی ملاقات 25 ستمبر کو ایک پارٹی کے دوران ہوئی، جہاں ایک دوسرے کے موبائل نمبرز کا تبادلہ کیا گیا۔ ملزمان کے بیان کے مطابق بعد ازاں لڑکی کے ساتھ ایک نجی سوسائٹی میں واقع فلیٹ میں وقت گزارا گیا۔
ملزمان نے پولیس کو بتایا کہ بعد میں لڑکی کو گاڑی میں بٹھا کر ڈیفنس کی جانب لے جایا جا رہا تھا، تاہم غازی روڈ کے قریب لڑکی نے گاڑی میں مزاحمت اور ہاتھا پائی شروع کردی اور مبینہ طور پر گاڑی سے اتر گئی۔
گرفتار ملزمان کے مطابق صورتحال سے گھبرا کر وہ گاڑی وہاں سے لے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ لڑکی کا پرس اور موبائل فون گاڑی میں رہ گیا تھا، جسے بعد میں راستے میں ایک نالے میں پھینک دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ زیادتی کے واقعے کا جائے وقوعہ ایک فلیٹ ہے، جس کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور وہاں سے اہم شواہد بھی اکٹھے کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق کیس کی مختلف پہلوؤں سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ گرفتار ملزمان کے بیانات اور دستیاب شواہد کی روشنی میں تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔








