آغا شورش کاشمیری حق گوئی اور استقامت کی علامت تھے، لیاقت بلوچ
اسلام آباد: جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ممتاز صحافی، شاعر، ادیب اور خطیب آغا شورش کاشمیری حق گوئی، جرأت اور استقامت کی روشن مثال تھے۔ ان کی تحریریں اور جدوجہد آج بھی صحافیوں، اہلِ قلم اور نوجوان نسل کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ نئی نسل کو ان کے افکار، صحافتی خدمات اور اصولوں سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس دستور کے زیرِ اہتمام آغا شورش کاشمیریؒ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا۔ تقریب میں سیاسی، صحافتی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی اور مرحوم کی صحافتی، ادبی، سیاسی اور دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ریفرنس سے حاجی نواز رضا، لیاقت بلوچ، رانا کوثر علی، سید منظور گیلانی، سینئر صحافی شہزاد فاروقی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
آغا شورش کاشمیری نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا، لیاقت بلوچ
لیاقت بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آغا شورش کاشمیری نے صحافت کو محض خبر رسانی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے نظریات، اصولوں اور عوامی حقوق کے تحفظ کا ذریعہ بنایا۔ ان کی زندگی حق گوئی اور ثابت قدمی کی مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے بچپن میں آغا شورش کاشمیری کو دیکھا اور سنا تھا۔ ملتان کے قلعہ قاسم میں ان کے جلسے کی یادیں آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں۔
لیاقت بلوچ کے مطابق تحریکِ آزادی کے لیے متعدد شخصیات نے قربانیاں دیں، جن میں آغا شورش کاشمیری کا کردار اہم تھا۔ حق بات کہنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آغا شورش کاشمیری نے بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، لیکن اپنے نظریات پر ثابت قدم رہے۔
آزادیٔ اظہار اور ذمہ دارانہ صحافت پر زور
مقررین نے کہا کہ آغا شورش کاشمیری نے اپنی زندگی آمریت، جبر اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے، آزادیٔ اظہار کے تحفظ اور تحریکِ ختمِ نبوت کے لیے جدوجہد میں گزاری۔ ان کی شخصیت اصول پسندی، غیرت، حمیت اور حق گوئی کی علامت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں ایسے صحافیوں کی ضرورت زیادہ محسوس کی جا رہی ہے جو دباؤ اور مصلحت سے بالاتر ہو کر حقائق عوام کے سامنے پیش کریں اور اپنے پیشے کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کریں۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ قلم اور زبان امانت ہیں، جن کا استعمال دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ صحافت کا بنیادی مقصد معاشرے کی رہنمائی، عوامی حقوق کا تحفظ اور حکمرانوں کا احتساب ہے۔
نوجوان صحافیوں کو علمی و ادبی ورثے سے روشناس کرانے کی ضرورت
سینئر صحافی شہزاد فاروقی نے کہا کہ آغا شورش کاشمیری، مولانا ظفر علی خان، مولانا ابوالکلام آزاد اور عبدالمجید سالک جیسی شخصیات کی تحریروں نے انہیں صحافت کی طرف راغب کیا۔ ان شخصیات نے قلم کے ذریعے معاشرے کی فکری تربیت کی اور حق و سچ کی روایت کو آگے بڑھایا۔
انہوں نے کہا کہ آغا شورش کاشمیری کے نظریات، صحافتی خدمات اور تحریکِ ختمِ نبوت کے لیے ان کی جدوجہد وسیع موضوعات ہیں، جن پر مستقل علمی نشستوں کا انعقاد ہونا چاہیے تاکہ نوجوان نسل ان کے افکار اور اصولوں سے آگاہ ہو سکے۔
مقررین نے کہا کہ ماضی کی صحافتی شخصیات کو علم و ادب، عربی و فارسی زبانوں اور مختلف علمی موضوعات پر گہری دسترس حاصل تھی۔ ان کا مطالعہ وسیع اور ذخیرۂ الفاظ غیر معمولی تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس علمی و ادبی ورثے کو محفوظ بنایا جائے اور نوجوان صحافیوں میں تحقیق، دیانت داری اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دیا جائے۔
آغا شورش کاشمیری کی ادبی اور علمی خدمات کو خراجِ عقیدت
تعزیتی ریفرنس میں مقررین نے آغا شورش کاشمیری کی بطور صحافی، شاعر، ادیب، مصنف اور خطیب خدمات کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تحریروں میں قومی و سیاسی جدوجہد، تحریکِ ختمِ نبوت، اہلِ علم کی سوانح اور صحافت و خطابت سے متعلق اہم مواد موجود ہے۔
مقررین کے مطابق ان کی تصانیف مطالعے، تحقیق اور فکری تربیت کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے عوامی حقوق، جمہوری اقدار اور آزادیٔ اظہار کی حمایت کی اور حق گوئی کو صحافتی ذمہ داری کا بنیادی تقاضا قرار دیا۔
آغا شورش کاشمیری کے افکار نئی نسل تک پہنچانے کا عزم
ریفرنس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آغا شورش کاشمیری کی تحریروں، افکار اور جدوجہد کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے علمی و فکری پروگراموں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
مقررین نے کہا کہ صحافت میں دیانت داری، جرأت، نظریاتی وابستگی اور حق گوئی کی روایات کو فروغ دینے کے لیے ماضی کی نمایاں صحافتی شخصیات کی زندگی اور کام سے سیکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق آغا شورش کاشمیری کا علمی و صحافتی ورثہ آج بھی اہلِ قلم اور نوجوان صحافیوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔








