امریکا: برطانوی شاہی خاندان سے وابستہ میگھن مارکل کے والد تھامس مارکل کو امریکی ریاست فلوریڈا میں وفاقی حکام نے گرفتار کر لیا ہے۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق 82 سالہ تھامس مارکل پر بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد رکھنے کے الزام میں ایک وفاقی فوجداری شکایت درج کی گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایف بی آئی نے تھامس مارکل کے زیرِ استعمال لاس اینجلس کے علاقے میں موجود دو اسٹوریج یونٹس کی عدالتی اجازت سے تلاشی لی، جہاں سے تقریباً 78 اشیا قبضے میں لی گئیں۔ ان میں سلائیڈز، فلم نیگیٹوز اور کتابیں شامل ہیں جن میں مبینہ طور پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد موجود تھا۔
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق بعض تصاویر میں ایک بالغ شخص کو کم عمر بچیوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جن کی شناخت کے حوالے سے ایک گواہ نے تھامس مارکل کا نام لیا۔ حکام کے مطابق ان مواد کی مزید جانچ بھی جاری ہے۔
اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز فلپائن میں سامنے آنے والی اطلاعات کے بعد ہوا۔ تھامس مارکل کے بیٹے تھامس مارکل جونیئر نے مبینہ طور پر اپنے والد کے سامان سے مشتبہ مواد ملنے کے بعد فلپائنی حکام اور ایف بی آئی سے رابطہ کیا تھا۔ فلپائن میں بھی اس معاملے کی الگ تحقیقات جاری ہیں، جہاں حکام کے حوالے سے ہزاروں تصاویر اور ایک ویڈیو کلپ کی برآمدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
میکسیکو میں بھی حکام نے ایک اسٹوریج مقام کی تلاشی کے دوران مبینہ طور پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد برآمد کرنے کی اطلاع دی ہے۔
دوسری جانب تھامس مارکل ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے چکے ہیں۔ ان کے بیٹے سے بھی تحقیقات کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی گئی ہے، تاہم امریکی حکام کی جانب سے اسے اس مقدمے میں ملزم قرار دیے جانے کی اطلاع نہیں دی گئی۔
میگھن مارکل نے اس سے قبل سامنے آنے والے الزامات پر گہرے صدمے اور تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے بچوں کو والد سے دور رکھنے کا فیصلہ ان کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا تھا، جبکہ انہوں نے متاثرہ بچوں کے ساتھ یکجہتی بھی ظاہر کی۔
واضح رہے کہ تھامس مارکل کے خلاف درج فوجداری شکایت میں لگائے گئے الزامات تاحال عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے اور قانون کے مطابق انہیں بے گناہ تصور کیا جائے گا جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے۔










