بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

پاکستانی بندرگاہوں پر ایران کے 18 ہزار کنٹینرز پھنس گئے، تاجروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا

SerialKiller

پاکستان کی بندرگاہوں پر ایران کے 18 ہزار کنٹینرز پھنس گئے، تاجروں کو کروڑوں کے نقصان کا خدشہ

پشاور: پاکستان کی بندرگاہوں پر ایران سے متعلق تقریباً 18 ہزار تجارتی کنٹینرز کئی ماہ سے پھنسے ہوئے ہیں، جس کے باعث ایرانی تاجروں کو اسٹوریج چارجز، تاخیری جرمانوں اور نقل و حمل کے اضافی اخراجات کی مد میں بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔

پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے کوآرڈینیٹر اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بعض کنٹینرز کو بندرگاہوں سے کلیئر کرانے اور ایران منتقل کرنے کے اخراجات 25 ہزار ڈالر سے بھی تجاوز کرچکے ہیں، جبکہ ان میں موجود سامان کی مالیت تقریباً 20 سے 30 ہزار ڈالر ہے۔ اس صورتحال میں بعض تاجروں کو اپنا سامان واپس حاصل کرنے کے لیے اس کی اصل مالیت کے برابر اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔

ضیاء الحق سرحدی کے مطابق یہ بحران مارچ 2026 میں جنگ کے باعث سمندری نقل و حمل پر عائد پابندیوں کے بعد پیدا ہوا۔ متعدد ایرانی تجارتی جہازوں کے راستے تبدیل ہونے کے نتیجے میں ان کا سامان پاکستانی بندرگاہوں پر اتار دیا گیا، تاہم مالی اور انتظامی مشکلات کے باعث یہ کھیپیں ایران منتقل نہیں ہوسکیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایرانی حکام کے مطابق کنٹینرز کی کلیئرنس میں تاخیر کی بڑی وجوہات میں ثالثی کمپنیوں کے نام پر جاری شپنگ دستاویزات، بین الاقوامی پابندیوں سے متعلق خدشات اور غیر معمولی اخراجات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 18 ہزار کنٹینرز میں سے صرف ایک ہزار کے قریب مالکان نے اب تک کلیئرنس کا عمل شروع کیا ہے، جبکہ باقی کنٹینرز کے مستقبل کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی ہے۔

تہران چیمبر آف کامرس کے ٹرانسپورٹ کمیشن کے سربراہ پیمان سنندجی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ اور پاکستان میں ایرانی سفارت خانے کے تعاون سے اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سامان کے مالکان کی نئی فہرست پاکستانی حکام کو فراہم کی جائے گی، جس میں ایران اور دیگر ممالک کے لیے جانے والی تجارتی کھیپوں کی الگ الگ نشاندہی ہوگی۔

ضیاء الحق سرحدی نے مزید بتایا کہ بعض ایسی کمپنیوں نے بھی ایرانی تاجروں سے بھاری رقوم وصول کیں جنہیں پاکستانی حکام کی منظوری حاصل نہیں تھی، تاہم کنٹینرز کی کلیئرنس کے لیے کوئی مؤثر پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ان کے مطابق بین الاقوامی لاجسٹکس کمپنی کے اخراجات میں 80 فیصد رعایت دینے کے حوالے سے پہلے مذاکرات بھی ہوئے تھے، لیکن اس فیصلے پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

ایرانی نجی شعبے کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستانی بندرگاہوں پر موجود سامان کو چھوٹے بحری جہازوں کے ذریعے ایران کی چابہار بندرگاہ منتقل کیا جائے۔ ان جہازوں میں 300 سے 400 کنٹینرز لے جانے کی گنجائش ہوگی، تاہم اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ رابطہ کاری اور اخراجات پر اتفاق ضروری ہے۔

ضیاء الحق سرحدی کے مطابق کنٹینرز کی مسلسل تاخیر سے ایرانی درآمد کنندگان پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ کلیئرنس کے مسائل برقرار رہنے سے پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی نقل و حمل بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے باعث دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

2026-11-02 331
Advertisement
Advertisement
Advertisement
×