واشنگٹن (اسٹاف رپورٹر): چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون نے کہا ہے کہ پاکستان اور کشمیری عوام کے تعلقات مضبوط اور باہمی وابستگی پر مبنی ہیں، پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
واشنگٹن ڈی سی میں سفارتخانہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف واضح انداز میں عالمی برادری کے سامنے پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران او آئی سی رابطہ گروپ میں شامل ممالک نے بھی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی۔ ان کے مطابق کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے اور اس کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق ہی ممکن ہے۔
رانا قاسم نون کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں مستقل امن اور سلامتی کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے۔ ان کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
اس موقع پر سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیری عوام کے لیے مشکلات کا مرکز بنا ہوا ہے اور کشمیر کے شہدا کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نظر میں تنازع کشمیر کی متنازع حیثیت بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں واضح ہے۔ سفیر پاکستان کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تاریخی، جغرافیائی اور قانونی پہلوؤں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔
رضوان سعید شیخ نے مزید کہا کہ معاشی اور سیاسی استحکام کے ساتھ مستقل محنت اور مؤثر سفارت کاری کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت سے دستبردار نہیں ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے بعد واشنگٹن کے دورے کا مقصد بھی عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کے دیرپا اور پائیدار حل کی جانب مبذول کرانا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔








