بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

پیپلز پارٹی ورکرز کی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی مذمت، جمہوری حقوق کی بحالی کا مطالبہ

SerialKiller

دہشت گردی کے خلاف جنگ جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا جواز نہیں، ناہید خان

پیپلز پارٹی ورکرز کی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی مذمت، جمہوری حقوق کی بحالی کا مطالبہ

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی مذمت، جمہوری و آئینی حقوق بحال کیے جائیں، پیپلز پارٹی ورکرز

راولپنڈی، اسلام آباد پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز (پی پی پی ڈبلیو) نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں قائم منتخب صوبائی حکومت کی معطلی کی شدید مذمت کرتے ہوئے جمہوری و آئینی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی ورکرز کے صدر ڈاکٹر صفدر علی عباسی، سابق رکن قومی اسمبلی ناہید خان، سینئر نائب صدور فیاض علی خان، ایڈووکیٹ امجد بلوچ اور فرح اسلم خان سمیت دیگر جماعتی عہدیداروں نے اپنے بیان میں کہا کہ منتخب وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کی برطرفی، انتظامی اختیارات کی گورنر کو منتقلی اور صوبائی قانون سازی کے اختیارات سے متعلق اقدامات جمہوریت، صوبائی خودمختاری اور خیبر پختونخوا کے عوام کے آئینی حقوق کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا جواز نہیں، ناہید خان

ناہید خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جمہوری اداروں کو کمزور کرنے یا عوام کے انتخابی مینڈیٹ کی پامالی کا بہانہ نہیں بننا چاہیے۔ ان کے مطابق دہشت گردی ایک سنگین قومی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں، حساس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے۔

پیپلز پارٹی ورکرز نے مؤقف اختیار کیا کہ سیاسی اختلافات کو منتخب حکومتوں کو معزول کرنے کے بجائے باہمی مکالمے اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

سنگین الزامات کے لیے قابلِ تصدیق شواہد ضروری ہیں، ڈاکٹر صفدر علی عباسی

ڈاکٹر صفدر علی عباسی اور دیگر جماعتی رہنماؤں نے ان الزامات پر تشویش کا اظہار کیا جن میں صوبائی قیادت پر دہشت گردوں کی معاونت یا افغانستان میں مخالفانہ مفادات کو سہولت فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے جانے کا ذکر ہے۔

پیپلز پارٹی ورکرز کے مطابق ایسے سنگین الزامات کو قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر ثابت کیا جانا چاہیے اور ان سے متعلق معاملات کو قانونی تقاضوں کے مطابق نمٹایا جانا چاہیے۔ جماعت نے کہا کہ مستند شواہد کے بغیر سیاسی اختلاف کو دہشت گردی میں سہولت کاری سے تعبیر کرنا یا اسے سیاسی مخالفین کی کردار کشی کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں۔

گرفتاریوں اور سیاسی کارکنوں کے حقوق پر تشویش

پی پی پی ڈبلیو نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، تحریک انصاف کے رہنماؤں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں یا گرفتاریوں کے خدشات، نیز مجوزہ احتجاج کے تناظر میں حبسِ بے جا کی دھمکیوں سے متعلق اطلاعات پر بھی تشویش ظاہر کی۔

جماعتی رہنماؤں نے کہا کہ کسی بھی گرفتاری کی قانونی بنیاد ہونی چاہیے اور ہر شہری کو قانونی کارروائی کے منصفانہ تقاضوں اور پُرامن سیاسی اظہار کا آئینی حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی سزا، خوف و ہراس اور بلاامتیاز گرفتاریوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

آئینی اقدامات میں شفافیت اور پارلیمانی جائزے کا مطالبہ

پیپلز پارٹی ورکرز نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے نفاذ کو غیر معمولی آئینی اثرات کا حامل قرار دیتے ہوئے ان اقدامات کی قانونی وجوہات واضح کرنے، آئینی تقاضوں پر سختی سے عمل کرنے اور بروقت پارلیمانی توثیق و جائزے کا مطالبہ کیا۔

جماعت نے کہا کہ وفاقی حکومت کو حاصل اختیارات کی حدود، صوبائی اسمبلی کی قانونی حیثیت اور صوبے کے انتظامی امور چلانے کے طریقہ کار کی مکمل وضاحت ہونی چاہیے۔

مذاکرات کے ذریعے جمہوری نظام کی بحالی پر زور

پیپلز پارٹی ورکرز کے مطابق پاکستان کا جمہوری استحکام عوامی مینڈیٹ کے احترام، اختیارات کی آئینی تقسیم اور صوبوں کے اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت چلانے کے حق سے وابستہ ہے۔ غیر معمولی اقدامات کو سیاسی مفاہمت کا متبادل نہیں بننا چاہیے اور نہ ہی انہیں نمائندہ اداروں کو کمزور کرنے کے لیے نظیر کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

جماعت نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت کے ساتھ مذاکرات کرے، بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور جلد از جلد معمول کی جمہوری و آئینی حکمرانی بحال کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

بیان میں کہا گیا کہ جمہوریت، آئین کی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور قانون کی حکمرانی پاکستان کے بنیادی اصول ہیں اور ان کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔

2026-10-12 63
Advertisement
Advertisement
Advertisement
×