اسلام آباد: حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو انتخابی اصلاحات سے متعلق قائم کی جانے والی پارلیمانی کمیٹی میں شامل ہونے کی دعوت دے دی ہے، تاہم اپوزیشن نے کمیٹی میں اپنی نمائندگی کے تناسب پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ گفتگو کے دوران انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور طارق فضل چوہدری نے پی ٹی آئی سے کمیٹی میں شمولیت کے لیے اپنے ارکان کے نام بھجوانے کی درخواست کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر نے مؤقف اختیار کیا کہ اپوزیشن کی شرکت سے پارلیمانی کمیٹی کا عمل مؤثر ہوگا اور اس سے پارلیمنٹ اور جمہوری نظام کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے اپوزیشن سے جلد نام فراہم کرنے کی اپیل بھی کی تاکہ اسپیکر قومی اسمبلی کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کر سکیں۔
رابطے کے دوران عامر ڈوگر نے کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی کے طریقہ کار سے متعلق سوالات اٹھائے۔ انہیں بتایا گیا کہ جماعتوں کی پارلیمانی نشستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی میں حکومت کے 15 اور اپوزیشن کے 5 ارکان شامل ہوں گے۔
عامر ڈوگر نے اپوزیشن کی محدود نمائندگی پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اتنے کم ارکان کے ساتھ اپوزیشن انتخابی اصلاحات کے عمل میں مؤثر کردار کیسے ادا کر سکے گی۔ انہوں نے 2013 میں قائم ہونے والی انتخابی اصلاحات کمیٹی کے تشکیل کے فارمولے کو بھی مدنظر رکھنے کی تجویز دی۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ وہ اپنی پارلیمانی قیادت سے مشاورت کے بعد حکومت کو جواب دیں گے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کو سب سے پہلے گزشتہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور انتخابی نتائج سے متعلق پی ٹی آئی کے اعتراضات کی تحقیقات کرنی چاہئیں۔
ذرائع کے مطابق طارق فضل چوہدری نے جواب دیا کہ کمیٹی کے ٹی او آرز اس کے نوٹیفکیشن کے بعد طے کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کھلے دل اور مثبت سوچ کے ساتھ اس معاملے کو آگے بڑھانا چاہتی ہے، اس لیے اپوزیشن جلد اپنے نام فراہم کرے تاکہ کمیٹی کی تشکیل کا عمل مکمل کیا جا سکے۔










