بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بڑی گراوٹ، نیسڈک 5.52 فیصد گر گیا

SerialKiller

3 کھرب ڈالر ڈوب گئے

امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں آنے والی تیزی اگلے ہی روز شدید مندی میں بدل گئی۔ وال اسٹریٹ میں ہونے والی اس فروخت کے نتیجے میں نیسڈک انڈیکس کو گزشتہ 19 ماہ کی بدترین یومیہ گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 کی مجموعی مارکیٹ ویلیو سے تقریباً 3 کھرب ڈالر کم ہو گئے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ابتدائی طور پر سرمایہ کاروں نے مثبت ردعمل دیا تھا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ کانگریس میں سیاسی طاقت کا توازن تبدیل ہونے سے غیر یقینی صورتحال میں کمی آئے گی، تاہم اگلے کاروباری روز مصنوعی ذہانت کے شعبے سے متعلق خدشات نے مارکیٹ کا رخ بدل دیا۔

سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ کانگریس اور ریاستی حکومتوں میں ڈیموکریٹس کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے باعث اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر، بجلی کے استعمال اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سرمایہ کاری پر مزید ضوابط عائد کیے جا سکتے ہیں۔ اس امکان نے مصنوعی ذہانت سے منسلک کمپنیوں کے حصص پر دباؤ بڑھا دیا۔

مارکیٹ میں سب سے زیادہ فروخت سیمی کنڈکٹر اور اے آئی ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں دیکھنے میں آئی۔ چپ ساز اداروں کے شیئرز میں کمی کا اثر دیگر شعبوں پر بھی پڑا اور بڑے اسٹاک انڈیکسز نمایاں گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے۔

کاروباری دن کے اختتام پر نیسڈک انڈیکس 5.52 فیصد کمی کے بعد 24,315 پوائنٹس پر آ گیا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں 4.36 فیصد اور ڈاؤ جونز میں 3.44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ سیمی کنڈکٹر انڈیکس بھی 12 فیصد سے زیادہ گر گیا۔

مصنوعی ذہانت کے شعبے کی بڑی کمپنی این ویڈیا کے حصص میں بھی نمایاں کمی ہوئی، جس کے باعث کمپنی کی مارکیٹ ویلیو سے تقریباً 450 ارب ڈالر کم ہو گئے۔ مجموعی طور پر ایس اینڈ پی 500 میں شامل کمپنیوں کی مارکیٹ مالیت میں تقریباً 3 کھرب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

مالیاتی ماہرین کے مطابق حالیہ مندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اب مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے امکانات کے ساتھ اس شعبے میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری، کمپنیوں کی آمدنی اور اخراجات کا بھی زیادہ باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میں ممکنہ سست روی، بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور حکومتی ضوابط سے متعلق خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔

2026-11-06 227
Advertisement
×