بانی: سید محمد حسنچیف ایڈیٹر: سید حسن وقار تراب

اسلام آباد صوبہ نہیں، نیا انتظامی یونٹ بنے گا: طارق فضل چوہدری

SerialKiller

فوٹو: فائل

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ عوام کی رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اگر چاروں صوبوں کے عوام نئے صوبوں کے حق میں ہوں تو اس معاملے کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد کو الگ انتظامی یونٹ بنانے کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کے لیے ایک نیا انتظامی ماڈل متعارف کرانے پر کام جاری ہے اور امکان ہے کہ یہ ماڈل ملک میں سب سے پہلے وفاقی دارالحکومت میں نافذ ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ پارلیمان کے ذریعے قانون سازی کرکے اسلام آباد کو ایک باقاعدہ انتظامی یونٹ کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس ماڈل کے ذریعے دارالحکومت کے کئی انتظامی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی بات نہیں ہو رہی بلکہ اسے ایک ایسے انتظامی یونٹ میں تبدیل کرنے کی تجویز ہے جس کے اختیارات عام صوبائی ڈھانچے سے مختلف ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر صوبے بھی مستقبل میں اسلام آباد کے مجوزہ ماڈل کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

طارق فضل چوہدری کے مطابق اسلام آباد کا موجودہ انتظامی نظام ابتدا میں عارضی بنیادوں پر تشکیل دیا گیا تھا، لیکن کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود اس میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی نہیں آسکی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف دارالحکومتوں میں رائج انتظامی نظاموں کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم کو اسلام آباد کے لیے نیا گورننس ماڈل تجویز کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانا آئینی طور پر ممکن نہیں، تاہم اسے ایک الگ انتظامی یونٹ کی شکل دی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت دارالحکومت کے ترقیاتی اور دیہی معاملات مختلف اداروں کے ذریعے دیکھے جا رہے ہیں، جس کے باعث انتظامی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے اسلام آباد کے لیے قانون ساز اسمبلی کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو معمولی نوعیت کے مقامی معاملات کے لیے قومی اسمبلی سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اگر اسلام آباد میں اپنی اسمبلی ہو تو مقامی مسائل کے حل اور قانون سازی کا عمل زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ ملک میں ابھی تک ایسا بااختیار بلدیاتی نظام سامنے نہیں آ سکا جو مقامی سطح پر تمام اختیارات مؤثر انداز میں استعمال کر سکے۔ ان کے مطابق اسلام آباد کے لیے مجوزہ نظام کا مقصد ایک مؤثر اور بااختیار انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں آزاد کشمیر سے بھی زیادہ ریونیو جمع ہوتا ہے، اس لیے دارالحکومت کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت واضح ہے۔

2026-09-14 15
Advertisement
Advertisement
Advertisement
×