اسلام آباد: وزیراعظم انسدادِ ہیپاٹائٹس پروگرام کے تحت وفاقی دارالحکومت میں ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص کے لیے اسکریننگ کا عمل جاری ہے، جس کے دوران اب تک ڈیڑھ لاکھ شہریوں کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
حکام کے مطابق اسکریننگ کے نتائج میں عام آبادی کے 2 سے ڈھائی فیصد افراد میں ہیپاٹائٹس سی کی موجودگی سامنے آئی ہے، جبکہ صحت کی سہولیات سے محروم علاقوں میں اس مرض کی شرح 6 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
شہریوں کی اسکریننگ پمز، پولی کلینک اور دیگر سرکاری اسپتالوں سمیت مختلف مراکز میں کی جا رہی ہے۔ ابتدائی ٹیسٹ میں مثبت نتائج سامنے آنے والے افراد کے پی سی آر ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ مرض کی حتمی تصدیق کی جا سکے۔ تصدیق شدہ مریضوں کو پروگرام کے تحت مفت ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
وفاقی حکومت نے ہیپاٹائٹس سی کی تشخیصی مہم کو ملک کے دیگر حصوں تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں خیبر پختونخوا میں تشخیصی کٹس اور ادویات کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے، جبکہ اگلے مرحلے میں سندھ کو یہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ بعد ازاں بلوچستان اور پنجاب میں بھی تشخیصی کٹس بھجوائی جائیں گی۔
وزیراعظم انسدادِ ہیپاٹائٹس پروگرام کے تحت 2030 تک پاکستان سے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسکریننگ، بروقت تشخیص اور متاثرہ افراد کو علاج کی سہولت فراہم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔









