صحت: 50 سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں گھٹنوں کا درد ایک عام شکایت ہو سکتی ہے، تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے محض بڑھتی عمر کا لازمی اثر سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت احتیاط، مناسب ورزش اور متوازن غذا کے ذریعے جوڑوں کی صحت بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
آرتھوپیڈک ماہرین کے مطابق سن یاس (Menopause) کے دوران ایسٹروجن ہارمون کی سطح میں کمی جوڑوں اور ان کے اردگرد موجود بافتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کی جسمانی ساخت اور اضافی وزن بھی گھٹنوں پر دباؤ بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
گھٹنوں کو صحت مند رکھنے کے لیے 4 اہم احتیاطی تدابیر
1۔ وزن کو متوازن رکھیں
جسمانی وزن میں اضافہ گھٹنوں کے جوڑوں پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ ماہرین کے مطابق صحت مند وزن برقرار رکھنے سے جوڑوں پر پڑنے والا بوجھ کم کرنے اور درد کی شدت میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
2۔ باقاعدگی سے ورزش کریں
پٹھوں کو مضبوط بنانے والی ورزشیں گھٹنوں اور کولہوں کے جوڑوں کو بہتر سہارا فراہم کرتی ہیں۔ ماہرین خواتین کو مشورہ دیتے ہیں کہ جوانی ہی سے جسمانی سرگرمی اور مناسب طاقت بڑھانے والی ورزشوں کو معمول بنائیں تاکہ عمر بڑھنے کے ساتھ جوڑوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد ملے۔
3۔ مناسب جوتوں کا استعمال کریں
خصوصاً سخت فرش پر ننگے پاؤں چلنے سے گریز کریں اور ایسے آرام دہ جوتے استعمال کریں جو پاؤں کو مناسب سہارا فراہم کریں۔ درست جوتوں کا انتخاب چلنے پھرنے کے دوران گھٹنوں پر دباؤ کم کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔
4۔ متوازن اور غذائیت سے بھرپور غذا کھائیں
روزمرہ خوراک میں مچھلی، سبز پتوں والی سبزیاں اور پھل شامل کریں۔ اس کے ساتھ کیلشیئم اور وٹامن ڈی سمیت ضروری غذائی اجزا کی مناسب مقدار کا خیال رکھنا بھی ہڈیوں اور پٹھوں کی صحت کے لیے اہم ہے۔
گھٹنوں کے درد میں ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا چاہیے؟
اگر گھٹنوں کا درد کئی ہفتوں تک برقرار رہے، رات کے وقت نیند متاثر کرے یا چلنے پھرنے اور سیڑھیاں چڑھنے میں دشواری پیدا ہو تو طبی معائنہ کروانا ضروری ہے۔
اسی طرح گھٹنے میں اچانک شدید سوجن، شدید درد یا ٹانگ پر وزن ڈالنے میں ناکامی کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کریں۔
ماہرین کے مطابق گھٹنوں کے درد کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے اس کی وجہ معلوم کرنا اور بروقت احتیاطی اقدامات کرنا بہتر ہے۔









