اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاجی مارچ کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد کی طرف جانے والے کسی مارچ، جلوس یا ریلی کے لیے سرکاری وسائل، عوامی فنڈز یا سرکاری اہلکاروں کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے صوبائی حکومتوں اور وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی سیاسی سرگرمی کے شرکاء کو سہولت فراہم کرنے کے لیے سرکاری گاڑیوں، مشینری یا دیگر سرکاری وسائل کا استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
عدالتی حکم کے مطابق کسی سرکاری ملازم کو اسلام آباد جانے والے مارچ یا ریلی میں شرکت کے لیے دباؤ، ترغیب یا کسی بھی دوسرے طریقے سے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے چیف سیکریٹریز اور انسپکٹر جنرل پولیس کو ایسے طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت بھی کی ہے جس کے ذریعے سرکاری ملازمین سیاسی رہنماؤں یا سرکاری عہدیداروں کی جانب سے مارچ میں سہولت کاری کے لیے کسی دباؤ یا ترغیب کی شکایت کر سکیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ اگر کسی سرکاری عہدیدار کے اقدامات کے نتیجے میں اسلام آباد کی حدود میں شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں تو اسے آئین اور اپنے عہدے کے حلف کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے اور قانون کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عدالت نے خلاف ورزی کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی ہدایت بھی کی ہے۔
عدالتی حکم میں یہ نہیں کہا گیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں کوئی وزیراعلیٰ خودکار طور پر عہدے سے فارغ ہو جائے گا، تاہم سرکاری وسائل کے سیاسی استعمال کے حوالے سے متعلقہ عہدیداروں کو آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کی واضح یاد دہانی کرائی گئی ہے۔










