لاہور: خانیوال کے اکبر بازار بیوٹیفکیشن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے معاملے پر سابق ڈپٹی کمشنر ملیحہ رشید کی لاہور سے گرفتاری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان کے خلاف اکبر بازار کی تزئین و آرائش کے منصوبے سمیت دیگر ترقیاتی کاموں کے فنڈز میں کروڑوں روپے کی مبینہ خورد برد، مالی بے ضابطگیوں اور منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کے الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
اس معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیدار کی گرفتاری اور مبینہ طور پر استعمال ہونے والے سرکاری فنڈز کی ریکوری کے احکامات جاری کیے تھے۔ سابق ڈپٹی کمشنر کو بھی ٹھیکیدار کو پیشگی ادائیگی کے معاملے پر تحقیقات میں شامل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے بعد ضلع کونسل خانیوال کے سب انجینئرز زین بلوچ اور شہباز علی ڈھڈی سمیت دیگر چار ملزمان مبینہ طور پر روپوش ہوگئے ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
اکبر بازار بیوٹیفکیشن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سرکاری ترقیاتی فنڈز کے استعمال اور منصوبے کی تکمیل میں تاخیر سے متعلق تحقیقات کا دائرہ وسیع کیے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ اس معاملے میں عائد الزامات کی حتمی نوعیت کا تعین تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گا۔









