ایک چھوٹے سے گاؤں میں علی نام کا ایک ذہین اور نیک دل بچہ رہتا تھا۔ وہ اپنے والدین کا بہت فرمانبردار تھا اور ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
ایک دن علی اسکول سے گھر واپس آ رہا تھا۔ راستے میں اسے ایک بوڑھا شخص نظر آیا جو سڑک کے کنارے بیٹھا پریشان ہو رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بھاری تھیلا تھا اور وہ اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
علی فوراً اس کے پاس گیا اور بولا:
"بابا جی! کیا میں آپ کا تھیلا گھر تک پہنچا دوں؟"
بوڑھے شخص نے خوش ہو کر کہا، "بیٹا! اللہ تمہیں خوش رکھے، میری کمر میں درد ہے اور یہ تھیلا مجھ سے اٹھ نہیں رہا۔"
علی نے تھیلا اٹھایا اور بوڑھے شخص کے ساتھ چل پڑا۔ کچھ دیر بعد وہ اسے اس کے گھر تک لے گیا۔
بوڑھے شخص نے علی کو کچھ پیسے دینے چاہے، لیکن علی نے مسکرا کر کہا:
"بابا جی! مجھے پیسے نہیں چاہئیں۔ امی کہتی ہیں کہ کسی کی مدد کرنا بھی نیکی ہے۔"
بوڑھے شخص نے دعا دیتے ہوئے کہا، "بیٹا! اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے اور تمہیں کامیاب کرے۔"
علی گھر واپس آیا تو اس کی والدہ نے پوچھا، "بیٹا! آج اتنی دیر کیوں ہوگئی؟"
علی نے سارا واقعہ اپنی والدہ کو بتایا۔ والدہ نے اسے گلے لگایا اور کہا:
"بیٹا، یاد رکھو! نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ انسان کو اس کا بدلہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور ملتا ہے۔"
کچھ دن بعد علی کے والد بیمار ہوگئے۔ گھر کے حالات بھی کچھ مشکل تھے۔ اچانک ایک دن وہی بوڑھا شخص علی کے گھر آیا۔ اس نے علی کے والد کے علاج کے لیے مدد کی اور کہا:
"بیٹا! آج مجھے تمہاری اس نیکی کا بدلہ چکانے کا موقع ملا ہے۔"
علی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔ اسے اپنی والدہ کی بات یاد آگئی کہ نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔
سبق
ہمیں کسی کی مدد بدلے کی امید کے بغیر کرنی چاہیے، کیونکہ نیکی کا اجر اللہ تعالیٰ ضرور عطا فرماتا ہے۔










